Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

سپریم کورٹ کےحکم پرہی کسی جماعت کو کالعدم قراردیاجاسکتا ہے

SAMAA | - Posted: Jul 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سابق الیکشن کمشنر کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بغیر نہ تو کسی جماعت کو کالعدم قرار دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کا انتخابی نشان خارج کرسکتا ہے۔
سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے کنوردلشاد کا کہنا تھا کہ جب کسی جماعت کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آجاتا ہے تو پھر اس پارٹی کے اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم اور دفاتر بند کر دیے جاتے ہیں۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان کے حوالے سے اپنا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ اب ریفرنس بناکر سپریم کورٹ میں درخواست دے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا کیس تاخیر کے باعث کمزور ہوگیا ہے کیوں کہ فیصلے کے 60 یوم کے اندر ریفرنس داخل کرنا ضروری ہے لیکن اس معاملے کو تو 6 ماہ گزر چکے ہیں۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ اس دوران حکومتی وزیروں نے تحریک لبیک کی تعریفیں کیں اور جیل میں ان کے رہنماؤں سے مذاکرات بھی کرتے رہے لہٰذا ممکن ہے سپریم کورٹ حکومت سے ایسی باتوں کے پر بازپرس کرے۔
آزاد کشمیر الیکشن سے متعلق کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ وہاں کا الیکشن کمیشن فیصلوں میں آزاد ہے اور ان کا پاکستان کے قوانین یا فیصلوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی پر کشمیر میں پابندی کا فیصلہ آزادکشمیر حکومت ہی کرسکتی ہے اور پارٹی ایسے کسی فیصلے کے خلاف اپیل بھی وہیں کی عدالتوں میں کرسکتی ہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی شہلارضا کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے ملک پر بڑھتے ہوئے سائے کے حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں۔
شہلا رضا کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں لڑکیوں کے کالج میں بم دھماکا ہوا، پشاور میں طالبان کے پرچم لہرائے گئے جبکہ بابوسر ٹاپ پر طالبان نے جرگہ منعقد کیا لیکن حکومت کی ساری توجہ سیاسی مخالفین پر مرکوز ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube