Sunday, September 19, 2021  | 11 Safar, 1443

کوہ نورہیرے کی برطانیہ سےواپسی کی درخواست،دلائل کے لیے وکلاء طلب

SAMAA | - Posted: Jul 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago

لاہور ہائیکورٹ نے کوہ نور ہیرے کی برطانیہ سے واپسی سے متعلق دائر درخواست پر دلائل کے لئے وکلاء کو 16 جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

منگل کولاہور ہائیکورٹ میں کوہ نور ہیرے کی برطانیہ سے واپسی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار بیرسٹرجاوید اقبال جعفری عدالت میں پیش ہوئے۔

اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے جس سرکاری وکیل کو یہ کیس دیا ہے وہ موجود نہیں ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ معلوم ہوا ہے کہ بھارت بھی اس ہیرے کی واپسی کے لیے کوششیں کررہا ہے، میں اگرمرگیا تو یہ کیس بھی ختم ہوجائےگا۔درخواست گزار نےعدالت سے استدعا کی کہ میرے دلائل کے لیے یہ کیس جمعہ کے لیے مقرر کردیں۔

فاضل جج نے ریمارکس دئیے کہ درخواست گزار دلائل کے لیے 16 جولائی کو پیش ہوں۔عدالت نے سماعت 16 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

اٹھائیس جون کو لاہور ہائیکورٹ نے کوہ نور ہیرے کی پاکستان واپسی کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر کی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ برطانیہ نے یہ ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پوتے دلیپ سنگھ سے چھینا تھا اور اسے برطانیہ لے جایا گیا تھا۔ کوہِ نور پنجاب صوبے کا ثقافتی ورثہ ہے اور اس کے شہری اس کے اصل مالک ہیں۔درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ کوہ نور ہیرا برطانوی حکومت سے واپس لینے اور پاکستان لانے کا حکم دیا جائے۔

پانچ سال پہلے کی درخواست:۔

اس سے قبل دسمبر 2015 میں لاہورہائیکورٹ نے برطانیہ سے کوہ نور ہیرا واپس لانے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ایڈووکیٹ جاوید اقبال جعفری کی جانب سے دائرکردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف سماعت نہیں کر سکتے۔ایڈووکیٹ جاوید اقبال جعفری نے کوہ نورہیرے کی واپسی کیلئے دائردرخواست میں ملکہ برطانیہ کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کوہ نور ہیرا جو کہ اب ٹاور آف لندن میں نمائش کیلئے رکھا گیا ہے اسے واپس پاکستان لانے کے احکامات دیے جائیں۔

کوہ نور ہیرے کی تاریخ:۔

کئی تاريخی روايات کے مطابق اس ہیرے کو 4 ہزار سال پہلے موجودہ بھارتی رياست آندھرا پرديش کی ايک کان سے نکالا گيا تھا۔قرون وسطی میں یہ جنوبی ہندوستان کے کاکيتيہ خاندان کے حکمرانوں کی ملکيت تھا، مگر بعد ميں رياستوں کے درميان جنگ و جدل کے دوران مختلف راجاؤں کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا 16ویں صدی عیسوی میں سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا۔ 1526 میں پانی پت کی لڑائی میں فتح کے بعد پہلے مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر تک پہنچا۔ مغلیہ دور کے زوال کے دنوں میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ تخت طاؤس کے ساتھ یہ ہیرا بھی لے گیا۔

روایات ہیں کہ کوہ نور کا نام اسی ایرانی بادشاہ نے دیا۔ نادر شاہ کے قتل کے بعد ہیرا افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں چڑھ گیا، جس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں تخت لاہور کو مل گیا۔

سال 1849 میں برطانیہ کے پنجاب پر قبضہ کے بعد انگریزوں نے ہیرا راجہ رنجیت سنگھ کے نابالغ پوتے دلیپ سنگھ سے ہتھیایا اوراس کو لاہور میں برٹش انڈیا کمپنی کے خزانے میں جمع کرادیا گیا اور بعد میں ہیرے کو برطانیہ بھجوا دیا گیا۔یہ ہیرا 1953 میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی تاج پوشی کے موقع پر ان کے تاج میں جڑدیا گیا۔

ہیرے کی واپسی کا مطالبہ:۔

سال1947 سے پاکستان اور بھارت کوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔1976 میں پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم جیمز کالاہان سے مطالبہ کیا تھا کہ کوہِ نور ہیرا پاکستان کو لوٹایا جائے، جواب میں انہوں نے انکار ہی کیا۔

سال 1997 میں برطانیہ کی ملکہ بھارت کی آزادی کی 50ویں سالگرہ پر نئی دہلی آٗئیں تو بھارتیوں کی بہت بڑی تعداد نے ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ پاکستان اور بھارت کےعلاوہ افغانستان اور ایران بھی اس قیمتی پتھر کے دعوی دار رہے ہیں۔

ہیرے کا وزن:۔

انگریزوں کے پاس جانے سے پہلے ہیرے کا اصل وزن 37 گرام تھا ۔ تاہم برطانیہ کی طرف سے اس ہیرے کو بہتر شکل میں لانے اور چمک دھمک میں اضافے کے لئے اس کا سائز کچھ مختصر کردیا گیا ہے۔موجودہ صورت میں 105 قیراط کا ہیرا 21 گرام کا رہ گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube