Monday, September 20, 2021  | 12 Safar, 1443

بدفعلی کیس:عزیزالرحمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

SAMAA | - Posted: Jul 12, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 12, 2021 | Last Updated: 2 months ago

لاہور کی عدالت نے بدفعلی کے کیس میں عزیزالرحمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی ہے۔

پیر کولاہورمیں مدرسے کے طالب علم سے بدفعلی کے کیس پر مجسٹریٹ کے روبرو سماعت ہوئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ کچہری  رانا راشد علی نے کیس کی سماعت کی ۔ملزم عزیزالرحمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے عزیز الرحمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔ عدالت نے پولیس کو کیس کا چالان جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔

پانچ جولائی کوعدالت میں جمع ہونے والی ڈی این اے رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔عدالت میں جمع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عزیزالرحمن بے قصور نکلے ہیں۔ڈی این اے رپورٹ کے مطابق طالب علم سے جنسی زیادتی کے کوئی شواہد موجود نہیں اورعزیزالرحمن اور متاثرہ طالب علم کا ڈی این اے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مدرسے کے طالب علم سے لیے گئے سیمپل میں کچھ بھی نہیں ملا اور متاثرہ طالب علم کا میڈیکل تاخیرسے ہوا ہے۔

اٹھائیس جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ رانا راشد نے کیس پرسماعت کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ضروری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا اور11 جولائی کوعدالت کے روبرو دوبارہ  پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

دو ہفتے قبل اپنےاعترافی بیان میں عزیزالرحمان نے بتایا کہ وائرل ہونےوالی ویڈیو ان کی ہے اور وہ ویڈیو متاثرہ لڑکےنےچھپ کربنائی تھی۔ عزيزالرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مدرسے کے لڑکے کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر بدفعلی کی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوف کا شکار ہوگیا تھا۔ بیٹوں نے لڑکے کو کسی سے بات کرنے سے روکا تاہم منع کرنے کے باوجود ویڈیو وائرل کردی۔

عزیزالرحمان نے مزید بیان دیا کہ مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور اس لیے ویڈیو بیان جاری کیا تاہم انتظامیہ مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکی تھی اور اس لئے میانوالی میں چھپ کر رہ رہا تھا۔

عزیزالرحمان کيخلاف صابر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔آئی جی پنجاب نے اس معاملے کو ٹيسٹ کيس قرار ديتے ہوئے ٹويٹ کيا تھا کہ معاملے کی سائنسی اور جديد تقاضوں کے مطابق تفتيش کی جائے گی اورملزم کوعدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ درج ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو لاہور میں مدرسہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے برطرف عہدےدار مفتی عزیز الرحمان اور مدعی طالب علم کی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube