Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

مویشیوں کےسینگ اکھیڑنےکے بڑھتے واقعات، قربانی کی قبولیت مشکوک

SAMAA | - Posted: Jul 9, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 9, 2021 | Last Updated: 3 months ago

ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گردش کررہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند افراد ایک بیل کو لٹا کر اس کے سینگ کاٹ رہے ہیں اور پھر خون روکنے کے لیے سینگوں کی جگہ کو گرم لوہے سے داغ رہے ہیں جب کہ اس دوران رسیوں سے جکڑا ہوا بیل تکلیف سے مسلسل تڑپ اور کراہ رہا ہے۔
مویشی منڈی سے متعلق افراد سے اس بارے میں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ عمل کافی عرصے سے ہورہا ہے اور اس کام کے ماہرافراد بظاہر جانور کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے اس کے سینگ کاٹ دیتے ہیں تاکہ انہیں جانور کے زیادہ دام مل سکیں۔ بعض کاریگر جانور کو نشے کے انجیکشن لگاتے ہیں جب کہ کئی بغیر مدہوش کیے ہی سینگ کاٹتے ہیں جس سے جانور کو بے انتہا تکلیف ہوتی ہے۔
سینگ کاٹ دیے جانے کے بعد بھی کافی عرصے تک جانور کے زخم تازہ رہتے ہیں اور اس پر ایک ایسا نفسیاتی اثر ہوجاتا ہے کہ وہ کسی انسان کے زیادہ نزدیک آنے پر ایک خوفزدہ بچے کی طرح برتاؤ کرنے لگتا ہے گو اسے خدشہ ہو کہ کہیں اس کے ساتھ وہی عمل پھر سے نہ دہرادیا جائے۔
ڈیری کے شعبے سے وابستہ عبدالوحید گدی کا کہنا ہے کہ عام طور پر سینگ والے بیل کے مقابلے میں بغیر سینگ والے بیل کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے اس لیے بیچنے کی غرض سے جانور پالنے والے بعض افراد چھوٹی عمر میں ہی بچھڑے کے سینگ تیزاب کے چند قطرے ڈال کر ضائع کردیتے ہیں جب کہ کچھ بیوپاری بیل کے سینگ آری اور کلچ وائر سے کاٹتے ہیں جس کے باعث زخم بن جاتے ہیں جو دوا لگانے کے بعد بھر جاتے ہیں۔
کسی وقت سینگ کاٹنے والے کاریگر پنجاب اور اندرون سندھ میں ہوتے تھے اب کراچی میں بھینس کالونی اور دیگر علاقوں میں بھی کام کررہے ہیں۔عبدالوحید کے مطابق صرف ان جانوروں کے سینگ کاٹے جاتے ہیں جو خوبصورت اور بھاری بھرکم ہوتے ہیں اور جن کی اچھی قیمت ملنے کی امید ہوتی ہے کاریگر اس کام کے 5 ہزار روپے تک لیتے ہیں۔

جانوروں کے بیوپاری جنید قریشی کے مطابق صرف جانوروں کے سینگ ہی نہیں کاٹے جاتے بلکہ دانتوں کی رگڑائی بھی کی جاتی ہے اور وہ عمل بھی انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے جس میں گاہکوں کو دھوکہ دینے کی عرض سے چار دانت والے جانور کو دو دانت کا ظاہر کرنے کے لیے اطراف کے دو دانت گھس کر غائب کردیے جاتے ہیں۔ ڈھائی سال کے جانور کے 2 دانت جب کہ 4 سال کے جانور کے 4 دانت ہوتے ہیں یہ نچلے جبڑے میں بالکل درمیان میں باقی دانتوں کے مقابلے میں تھوڑے اونچے ہوتے ہیں۔
سماء ڈیجیٹل نے اس قسم کے عمل سے گزرے جانوروں کی قربانی کی قبولیت و دیگر حوالوں سے معروف مذہبی اسکالر اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مفتی محمد زبیر سے رابطہ کیا جنہوں نے اس مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مفتی محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جس طرح جانورو ں کے سینگ کاٹے جاتے ہیں یہ انتہائی ظالمانہ فعل ہے سینگوں کو کاٹنا یا خوبصورت و کم عمر ظاہر کرنے غرض سے سینگوں کی تراش خراش شرعی طور پر ناجائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح جانوروں کی عمر چھپانے کے لیے دانتوں کی بھی تراش خراش کی جاتی ہے جو جائز نہیں ہے۔

ایسے جانوروں کی قربانی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے مفتی محمد زبیر نے کہا کہ اگر سینگ جڑ سے کاٹے جائیں یہاں تک کہ دماغ تک اثر جائے اور زخم بن جائے تو ایسے جانوروں کی قربانی نہیں ہوگی لیکن اگر سینگ کاٹنے کا اثر گہرا نہ ہو تو یہ فعل تو درست نہیں لیکن قربانی شرعی طور پر ہوجائے گی۔
پاکستان اینمل ویلفیئر سوسائٹی کی عہدیدار ماہرہ عمر نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ملک میں جانوروں کے ساتھ ظلم ہوتا چلا آرہا ہے اور آئے روز سوشل میڈیا پر جانوروں پر ظلم کی وڈیو وائرل ہوتی رہتی ہیں جسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔
ماہرہ عمر کا کہنا تھا کہ قربانی کے جانوروں کی شکل بگاڑنا اور سینگ کاٹنا ایک ظالمانہ فعل ہے اور یہ حکومت کے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے افعال پر نظر رکھیں اور اس قسم کا ظالمانہ عمل کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ دیکھیں کہ کہیں وہ ایسا جانور تو نہیں خرید رہے جس پر ظلم ہوا ہوا یا کسی زیادتی کی وجہ سے زخمی یا بیمارہوگیا ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube