Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

مفتی تقی عثمانی پرحملے کا ملزم کون ہے،دارالعلوم کیوں گیا؟

SAMAA | - Posted: Jul 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی پر ہونے والے مبینہ حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں تاہم پولیس نے پکڑے جانے والے ملزم کے بیان اور اس کے حوالے سے کچھ دیگر ابتدائی انکشافات کیے ہیں۔
ایس ایس پی کورنگی شاہجہان خان نے سما ڈیجیٹل کو بتایا ہے کہ مبینہ حملہ آور کے ابتدائی بیان کی روشنی میں پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا اور ملزم کے اہلخانہ، رشتےداروں اور پڑوسیوں سے معلومات اکٹھی کیں تو انہوں نے بتایا کہ ملزم کا ذہنی توازن درست نہیں اور کافی عرصے سے ملزم کا علاج چل رہا ہے۔
ایس ایس پی کے مطابق پولیس نے ملزم کا میڈیکل ریکارڈ تحویل میں لے کر تصدیق کے لیے متعلقہ اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم کا کالنگ ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا ہے جس کی جانچ پڑتال کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزم کسی جرائم پیشہ گروہ سے وابسطہ نہیں۔
ایس ایس پی کورنگی کہنا کہ تحقیقات کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ملزم نے مفتی تقی عثمانی پر حملے کی نیت سے چاقو اپنے پاس رکھا لیکن چوں کہ ملزم سے چاقو برآمد ہوا اور اس کی حالت بھی مشکوک تھی اس لیے پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا۔
جمعرات 8 جولائی کو دارالعلوم کراچی کے سرپرست اعلی مفتی تقی عثمانی بعد نماز فجر نمازیوں سے ملاقات کر رہے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا جسے مشتبہ و مشکوک جانتے ہوئے گارڈز نے پکڑ لیا تھا۔ اس کے قبضے سے ایک سیاہ رنگ کا چاقو بھی برآمد ہوا۔ دارالعلوم انتظامیہ نے مشتبہ شخص کو عوامی کالونی پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ کراچی پولیس کا بیان ہے جو مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے لیکن اب تحقیقات کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے جس کے بعد پولیس محسوس کر رہی ہے کہ مفتی صاحب پر شاید حملہ ہوا ہی نہیں۔
دارلعلوم لراچی میں بعد نماز فجر گلستان جوہر کا رہائشی عاصم لئیق اپنی ناراض بیوی کو منانے کے لیے اس کے کپڑے لے کر مفتی صاحب سے دم کروانے گیا تھا۔
زیر حراست ملزم عاصم نے پولیس کو بیان میں بتایا کہ دم کے لیے جیسے ہی کپڑے باہر نکالے تو کپڑوں کے ساتھ تھیلے میں موجود چاقو بھی باہر آ گیا۔
عاصم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی ناراض ہو کر میکے چلی گئی ہے لیکن وہ اس سے بے حد محبت کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ کسی طرح واپس آجائے۔
ملزم کے بیان کے مطابق اس نے ناراض بیوی کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اب تک ناراض ہے اور وہ مفتی صاحب کے پاس اہلیہ کے کپڑوں پر دم کروانے اور ان سے مستقبل کے لائحہ عمل پر مشورہ کرنے گیا تھا۔
زیر حراست ملزم کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی شاہجہان خان نے بتایا کہ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی ناراض ہو کر چلی گئی ہے اور وہ مفتی صاحب سے مشورہ کرنے کے لیے گیا تھا۔
ایس ایس پی کے مطابق ملزم کے پاس ایک تھیلا تھا جس میں ایک عدد لیڈیز سوٹ اور ایک عدد چاقو تھا جس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
جب ایس ایس پی سے تحقیقات میں تاخیر سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ واقعہ آج صبح بعد نماز فجر پیش آیا تھا لیکن دارلعلوم انتظامیہ نے ملزم کو کئی گھنٹوں تک اپنے پاس ہی رکھا اور اس سے اپنی مدد آپ کے تحت تحقیقات کیں اور بعد میں پولیس کے حوالے کیا۔
ایس ایس پی کے مطابق پولیس نے ملزم کے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے اور ان سے تحقیقات کے بعد پتہ چل سکے گا کہ ملزم کے بیان میں کتنی صداقت ہے۔
شاہجہان خان سے جب سوال کیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ مفتی صاحب پر حملہ ہوا تو انہوں نے جواب دیا کہ کوئی بھی بیان دینا قبل از وقت ہو گا۔
ایس ایس پی کے مطابق مفتی تقی عثمانی پر ماضی قریب میں بھی حملہ ہوا تھا جس کے بعد ان کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور آج نماز کے بعد جب وہ نمازیوں سے ملاقات کر رہے تھے تو اس وقت بھی ان کے ساتھ گارڈ موجود تھا۔
ایس ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ گارڈز کی موجودگی میں چاقو سے حملہ کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن دوسری طرف یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دارلعلوم کی سیکیورٹی سخت ہے اس لیے اسلحہ اندر لانا ممکن نہیں تب ہی شاید ملزم نے حملے کے لیے چاقو کا انتخاب کیا ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube