Tuesday, September 28, 2021  | 20 Safar, 1443

مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے

SAMAA | and - Posted: Jul 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Jul 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago

مبینہ حملہ آور بیوی کے کپڑوں پردم کروانے آیا تھا،پولیس

ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر چاقو سے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ مفتی تقی عثمانی واقعے میں محفوظ رہے۔

کراچی میں جمعرات کی صبح مفتی تقی عثمانی سے نماز فجر کے بعد دارالعلوم میں ایک شخص نے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ اس کی دو بیویاں ہیں اور وہ اس کو چھوڑ چکی ہیں اور اس سلسلے میں دعا کروانی ہے۔

 ایس ایس پی کورنگی شاہ جہاں کا کہنا ہے کہ ملزم گلستان جوہر کا رہائشی ہے اور حملہ آور ذہنی طور پر پریشان بھی لگتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

سماء سے بات کرتے ہوئے مفتی زبیر نے بتایا کہ فجر کی نماز کے بعد ایک شخص نے مفتی تقی عثمانی سے بات کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ دور سے آیا ہوں اور ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔ ملزم نے بیگ سے خنجر نکالا اور جیب میں رکھ لیا۔ اس دوران گارڈز نے ملزم کو فوری طور پر پکڑلیا۔

مفتی تقی عثمانی نے واقعے سے متعلق آڈیو بیان جاری کر دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے بتایا کہ فجر کے بعد ایک صاحب مجھ سے ملنے آئے تھے اور جب ان سے ملاقات کے لئے اٹھا تو انہوں نے چاقو نکال لیا۔ اس دوران نزدیک کھڑے ساتھیوں نے ملزم کو پکڑلیا۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور متعلقہ ادارے اس واقعے کی تفتیش کررہے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملے سے متعلق کراچی پولیس کا بیان جاری کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ 8 جولائی بروز جمعرات دارالعلوم کراچی کے سرپرست اعلی مفتی تقی عثمانی بعد نماز فجر نمازیوں سے ملاقات کر رہے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا جس کو مشتبہ و مشکوک جانتے ہوئے گارڈز نے پکڑ لیا جس کے قبضے سے ایک سیاہ رنگ کا چاقو بھی برآمد ہوا۔

دارلعلوم انتظامیہ نے مشتبہ شخص کو عوامی کالونی پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس کا خیال ہے کہ مفتی تقی پر حملہ کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔

دارالعلوم کراچی میں بعد نماز فجر گلستان جوہر کا رہائشی عاصم لئیق اپنی ناراض بیوی کو منانے کے لیے اس کے کپڑے لے کر مفتی صاحب سے دم کروانے گیا تھا۔ زیر حراست ملزم عاصم نے پولیس کو بیان میں بتایا کہ دم کے لیے جیسے ہی کپڑے باہر نکالے تو کپڑوں کے ساتھ تھیلے میں موجود چاقو بھی باہر آ گیا۔

عاصم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی ناراض ہو کر میکے چلی گئی ہے لیکن وہ اس سے بےحد محبت کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ کسی طرح واپس آجائے۔ ملزم کے بیان کے مطابق اس نے ناراض بیوی کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اب تک ناراض ہے اور وہ مفتی صاحب کے پاس اہلیہ کے کپڑوں پر دم کروانے اور ان سے مستقبل کے لائحہ عمل پر مشورہ کرنے گیا تھا۔

زیر حراست ملزم کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی شاہجہاں بلوچ نے بتایا کہ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی ناراض ہو کر چلی گئی ہے اور وہ مفتی صاحب سے مشورہ کرنے کے لیے گیا تھا۔

ایس ایس پی کے مطابق ملزم کے پاس ایک تھیلا تھا جس میں ایک عدد لیڈیز سوٹ اور ایک عدد چاقو تھا جس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

جب ایس ایس پی سے تحقیقات میں تاخیر سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ واقعہ آج صبح بعد نماز فجر پیش آیا تھا لیکن دارالعلوم انتظامیہ نے ملزم کو کئی گھنٹوں تک اپنے پاس ہی رکھا اور اس سے اپنی مدد آپ کے تحت تحقیقات کیں اور بعد میں پولیس کے حوالے کیا۔

ایس ایس پی کے مطابق پولیس نے ملزم کے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے اور ان سے تحقیقات کے بعد پتا چل سکے گا کہ ملزم کے بیان میں کتنی صداقت ہے۔

شاہجہاں بلوچ سے جب سوال کیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ مفتی صاحب پر حملہ ہوا تو انہوں نے جواب دیا کہ کوئی بھی بیان دینا قبل از وقت ہوگا۔

ایس ایس پی کے مطابق مفتی تقی عثمانی پر ماضی قریب میں بھی حملہ ہوا تھا جس کے بعد ان کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور آج نماز کے بعد جب وہ نمازیوں سے ملاقات کر رہے تھے تو اس وقت بھی ان کے ساتھ گارڈ موجود تھا۔

ایس ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ گارڈز کی موجودگی میں چاقو سے حملہ کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن دوسری طرف یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دارالعلوم کی سیکیورٹی سخت ہے اس لیے اسلحہ اندر لانا ممکن نہیں تب ہی ملزم نے حملے کے لیے چاقو کا انتخاب کیا۔ زیر حراست ملزم سے تحقیقات جاری ہیں۔

کراچی میں فائرنگ، مفتی تقی عثمانی محفوظ، 2 افراد شہید، 2 زخمی

وفاقی وزیر داخلہ

وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے مفتی تقی عثمانی کو ٹیلیفون کرکے حملے کی کوشش سے متعلق دریافت کیا۔ شیخ رشید نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ مفتی تقی عثمانی سے ان کی خیریت دریافت کی اور حملے کی کوشش پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی اعلی پائے کے عالم اور دین اسلام کی شان ہیں، مفتی عثمانی تقی عثمانی کی زندگی کے لیے دعا گو ہیں۔

دو سال قبل مارچ میں کراچی کی نیپا چورنگی پر دارالعلوم کراچی کی 2 گاڑیوں پر موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں بھی مفتی تقی عثمانی بال بال بچ گئے تھے۔ گاڑی میں ان کے ہمراہ اہلیہ اور 2 پوتے بھی تھے۔

فائرنگ کے واقعے میں ان کے2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوگئے تھے جبکہ بيت المکرم مسجد کے خطيب مولانا عامر شہاب اور مفتی تقی عثمانی کا ڈرائيور زخمی ہوا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
مفتی تقی عثمانی پرقاتلانہ حملہ،مفتی تقی عثمانی،دارالعلوم کورنگی,Mufti Tariq Usmani,Mufti Taqi Usmani qatilana hamlay mai mehfoos rahay
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube