Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

پی ٹی وی جنسی ہراسگی کیس،سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago

برطرف خاتون ملازمہ کی بحالی کی اپیل مسترد

سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی وژن میں مبینہ جنسی ہراسگی کیس کا فیصلہ سنادیا۔ افسران پر الزام ثابت کرنے میں ناکامی پر برطرف ملازمہ کی بحالی کی اپیل مسترد کردی گئی۔ فیصلے میں خواتین کے جنسی تحفظ کیلئے 2010ء میں بنایا گیا قانون محض دکھاوا اور چشم پوشی کے مترادف بھی قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے پی ٹی وی میں مبینہ جنسی ہراسگی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 2010ء میں بنائے گئے قانون برائے انسداد جنسی ہراسگی پر بڑے سوالات اٹھا دیئے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ قانون برائے انسداد جنسی ہراسگی 2010ء تو حقیقت میں ہے ہی آنکھیں بند کرلینے کے مترادف، دفاتر میں خواتین کے جنسی تحفظ کا یہ قانون محض دکھاوے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو مردوں کی نسبت جنسی ہراسگی کا زيادہ سامنا ہوتا ہے لیکن سال 2010ء کا قانون صرف ایک پہلو سے متعلق ہے حالانکہ ہراساں صرف جنسی طور پر ہی نہیں بلکہ مذہب، رنگ اور عمر کی بنیاد پر بھی کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کئے جانے سے اداروں کا ماحول تباہ اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے، انسداد ہراسگی قانون کے تحت کسی بدتمیزی کرنیوالے کیخلاف کارروائی بھی اس وقت تک نہیں ہوسکتی، جب تک اس میں جنسی پہلو شامل نہ ہو اور اس کیلئے متاثرہ افراد کو جنسی پہلو بھی خود ثابت کرنا ہوتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون شکایت کنندہ افسران پر جنسی ہراسگی ثابت کرنے میں ناکام رہیں اور الزام ثابت نہ ہونے پر انکوائری کمیٹی شکایت کنندہ کیخلاف کارروائی کی سفارش کرسکتی ہے۔

عدالت نے خاتون درخواست گزار کی ملازمت سے برطرفی کیخلاف اپیل بھی خارج کردی اور یہ بھی قرار دیا کہ برطرف ملازمہ کو بحال کرنے کا خاتون محتسب کو کوئی اختیار نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube