Tuesday, September 21, 2021  | 13 Safar, 1443

طالبعلم سےبدفعلی کا کیس،مدعی کے وکلا دلائل کیلئے طلب

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago

مدرسے کے طالب علم سے بدفعلی کے کیس میں عزیزالرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت کے حوالے سے عدالت نے وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کرلیا ہے۔

منگل کو لاہور کی عدالت میں عزیزالرحمان کے3 بیٹوں کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی۔ عدالت میں مدعی کے وکیل نےوکالت نامہ جمع کروادیا جبکہ عدالت نے وکلاء کو کل بروز بدھ دلائل کے لیے طلب کرلیا۔ ملزمان میں لطیف الرحمان، وسیم الرحمان اور وصی الرحمان شامل ہیں۔ ملزمان نےعدالت سے گرفتاری کے ڈر سے ضمانتیں کروا رکھی ہیں۔ملزمان نے موقف اختیار کیا کہ بے قصور ہیں اور پولیس نے مقدمے میں نامزد کررکھا ہے،خدشہ ہے کہ پولیس گرفتار کرلے گی اس لئےعدالت درخواست ضمانت منظور کرے۔

اس کےعلاوہ عزیزالرحمان اور طا لبعلم کی ویڈیو کا فرانزک رپورٹ ميں ویڈیو کا اصلی ہونا ثابت ہوگيا ہے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال نے بتایا کہ طالبعلم سے بدفعلی کی آڈیواورویڈیو فرانزک تجزیے کيلئے جمع کروائی گئی تھی۔ رپورٹ میں ویڈیو کيساتھ کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں پائی گئی اور ویڈیومیں موجود طالبعلم اور ملزم دیکھے جاسکتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ویڈیومیں موجود اشخاص خدوخال سے طالبعلم اور ملزم سےمطابقت رکھتے ہیں تاہم وقوعہ پرانا ہونے کی وجہ سے ڈی این اے تجزیہ نہيں ہوسکا ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے واضح کردیا کہ بدفعلی جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کےمستحق نہیں ہیں۔

عدالت میں جمع ہونے والی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق عزیزالرحمن بے قصور نکلے ہیں۔ڈی این اے رپورٹ کے مطابق طالب علم سے جنسی زیادتی کے کوئی شواہد موجود نہیں اورعزیزالرحمن اور متاثرہ طالب علم کا ڈی این اے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مدرسے کے طالب علم سے لیے گئے سیمپل میں کچھ بھی نہیں ملا اورمتاثرہ طالب علم کا میڈیکل تاخیرسے ہوا ہے۔

اٹھائیس جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ رانا راشد نے کیس پرسماعت کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ضروری کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا اور11 جولائی کو عدالت کے روبرو دوبارہ  پیش کرنے کا حکم دیا۔

بدفعلی کرنے کے الزام میں گرفتارعزیزالرحمن کے3 بیٹوں کی 30 جون تک عبوری ضمانتيں منظور کرلی گئی تھیں۔عزیزالرحمن کے تینوں بیٹوں نے عبوری ضمانتوں کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کيا تھا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے مقدمے میں متعدد نامعلوم افراد کو نامزد کر رکھا ہے۔

مزیدپڑھیں:بدفعلی کیس،ملزم عزیزاورطالبعلم کاميڈيکل ٹيسٹ کرالیاگیا

دو ہفتے قبل اپنےاعترافی بیان میں عزیزالرحمان نے بتایا کہ وائرل ہونےوالی ویڈیو ان کی ہے اور وہ ویڈیو متاثرہ لڑکےنےچھپ کربنائی تھی۔ عزيزالرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مدرسے کے لڑکے کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر بدفعلی کی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوف کا شکار ہوگیا تھا۔ بیٹوں نے لڑکے کو کسی سے بات کرنے سے روکا تاہم منع کرنے کے باوجود ویڈیو وائرل کردی۔

عزیزالرحمان نے مزید بیان دیا کہ مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور اس لیے ویڈیو بیان جاری کیا تاہم انتظامیہ مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکی تھی اور اس لئے میانوالی میں چھپ کر رہ رہا تھا۔

مزید پڑھیں:بدفعلی کیس،عزیز الرحمان کےجسمانی ریمانڈ میں توسیع

عزیزالرحمان کيخلاف صابر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔آئی جی پنجاب نے اس معاملے کو ٹيسٹ کيس قرار ديتے ہوئے ٹويٹ کيا تھا کہ معاملے کی سائنسی اور جديد تقاضوں کے مطابق تفتيش کی جائے گی اورملزم کوعدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ درج ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو لاہور میں مدرسہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے برطرف عہدےدار مفتی عزیز الرحمان اور مدعی طالب علم کی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube