Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

پاک افغان تجارتی راہداری کی ازبکستان تک توسیع

SAMAA | - Posted: Jul 5, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 5, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فوٹو: ٹوئٹر

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو ازبکستان تک توسیع دینے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد اگلے ہفتے ازبکستان کا دورہ کرے گا جبکہ پرائیویٹ سیکٹر سے سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر شیرباز بلور کی قیادت میں بھی تاجروں کا وفد 9 جولائی کو روانہ ہوگا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک اعلٰی سطحی وفد 13 تا 15 جولائی  ازبکستان کا دورہ کرے گا تین روزہ دورے میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں ازبکستان کی شمولیت کے معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی اور دونوں ممالک میں تجارت بڑھانے کے لئے معاہدے بھی ہوں گے۔

  کراچی سے اسلام آباد آئے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے رزاق داود کا کہنا تھا کہ ازبکستان تک ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک تک بھی رسائی مل جائے گی جس سے90ارب ڈالر کی تجارت کی راہیں کھل سکتی ہے۔پاکستان کے متوقع دورہ ازبکستان کے دوران ترجیحی تجارت (پریفیرشنل ٹریڈ ایگریمنٹس یعنی پی ٹی اے) معاہدے بھی ہوں گے۔مشیر تجارت کامزید کہنا تھا کہ یورپ میں علاقائی سطح پر تجارت ہوتی ہے افریقی ممالک میں بھی باہمی تجارت فروغ پارہا ہے ہمیں بھی اپنے حطے کی سطح پر تجارت بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔رزاق داوٗد کے مطابق یورپ کی طرز پر ہم اقوام متحدہ کے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ کنونشن کے تحت کسٹم ٹرانزٹ سسٹم کے زریعے وسط ایشیائی روٹ پر ایسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں کہ ایک جگہ سے رجسٹریشن ہونے اور دستاویزات بننے کے بعد دیگر ممالک بھی اس کو تسلیم کرے تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے تمام ممالک باہمی طور پر تجارت کرسکے۔

سرحد چیمبر آف کامرس کے سینیئر نائب صدر شاہد حسین کے مطابق سرحد چیمبر آف کامرس کے وفد کا دورہ 9 تا15 جولائی پر مشتمل ہوگا جس میں ازبکستان کے متعلقہ زمہ داران اور کاروباری افراد سے ملاقاتیں ہوں گی. سماء ڈجیٹل سے گفتگو میں شاہد حسین کا کہنا تھا کہ ازبکستان اپنا تجارتی سامان تاشقند، ترکمانستان اور ایران بندر عباس سے ایکسپورٹ کرتا ہے جو بہت لمبا روٹ ہے اس کے مقابلے میں وہ تاشقند، حیرتان، افغانستان اور طورخم سے پورٹ قاسم تک کا روٹ ہے جو ایران بندرعباس روٹ سے 2800 کلومیٹر کم ہے اس کے علاوہ ایران ان سے 540ڈالر چارج کرتا ہے پاکستان نے ازبکستان کو 200 ڈالر کی آفر دی ہے. ازبکستان کاٹن اور دیگر زرعی اجناس ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ پاکستان سے اسپورٹس گڈز، گارمنٹس اور سبزی پھل ازبکستان ایکسپورٹ کرسکتا ہے جب کہ افغانستان کو بھی اس تجارت سے فائدہ ہوگا. دونوں ممالک کی تجارت میں بینکنگ چینل اور کسٹم کے حوالے سے مسائل ہیں جن کو حل کیا جارہا ہے۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹری کے چیئرمین زبیر موتی والا کے مطابق پاکستان کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں توسیع سے بہت فائدہ ہوگا جب کہ وسط ایشیائی ممالک بھی پاکستان کے بندرگاہوں سے مستفید ہوسکتے ہیں لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان میں امن وامان کی خراب صورتحال ہے جس کی وجہ سے فی الوقت اس روٹ کے فنکشنل ہونے کے امکانات کم ہیں۔سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے زبیر موتی والا نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تجارت زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے چار سال قبل دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 2.7ارب ڈالر تھا جو کم ہوتے ہوتے گزشتہ سال 85کروڑ 10لاکھ ڈالرتک محدود ہوگیا تھا رواں سال قدرے بہتری آئی اوردونوں ممالک میں 1.2ارب ڈالرکی تجارت ہوئی لیکن یہ چار سال قبل والی تجارت کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔ زبیر موتی والا کے مطابق ازبکستان تک کے روٹ میں بدامنی کے علاوہ بھی کئی مسائل ہیں روڈ کا انفرااسٹرکچر اچھا نہیں ہے افغان حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بجائے افغانستان کے نام سے اشیاء بھیجی جائے اس کے علاوہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت جس طرح ہر علاقے کے باثر گروپس بھتہ مانگتے ہیں ازبکستان کے روٹ میں بھی یہ مسئلہ درپیش ہوگا۔

سرحد چیمبر آف کامرس کے سینیئر نائب صدر شاہد حسین کا افغانستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ حالات ہمیشہ نہیں رہیں گے بدامنی کے علاوہ بھی کئی مسائل ہیں لیکن اس کے باوجود پاک ازبکستان تجارت کے حوالے سے معاملات میں اچھی پیش رفت ہورہی ہے جس سے پورے حطے کو فائدہ ہوگا۔

 پاکستان اور ازبکستان دونون ممالک پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا روٹ ازبکستان تک توسیع دینے میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔ازبکستان کے کئی وفود پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں ازبک وزیر خارجہ وزیر اعظم عمران خان سے مارچ میں ملاقات کرچکے ہیں. دو ماہ قبل پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اس روٹ پر کراچی سے براستہ افغانستان ازبکستان تک تجارتی سامان لدا ایک ٹرک سامان اتار کر واپس آچکا ہے اور 50کے قریب مزید ٹرک بھی اس روٹ پر بھیجے جارہے ہیں۔اس روٹ میں پاکستان اور ازبکستان کی یکساں دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے لئے یہ روٹ صرف ازبکستان ہی نہیں بلکہ سینٹرل ایشیا کی راہیں کھول دے گا جب کہ ازبکستان کو بھی پاکستانی بندرگاہوں کے زریعے عرب ممالک تک رسائی مل جائے گی اور ازبکستان کے زریعے دیگر وسط ایشیائی ممالک کو بھی گلف کی نئی مارکیٹ مل جائے گی۔

وزارت صنعت وتجارت پاکستان کے زمہ داران کے مطابق ازبکستان کی جانب سے پاکستان سے گوادر کے قریب تجارتی سامان اسٹاک کرنے کے لئے جگہ بھی مانگی ہے جس پر پاکستان نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ پاکستان کو بھی ازبکستان تاشقند  میں اسٹاک کے لئے جگہ فراہم کرے گا جس سے پاکستان دیگر وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات کرسکے گا دونوں ممالک میں ایک دوسرے کو اسٹاک کے لئے جگہ فراہمی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube