Tuesday, September 28, 2021  | 20 Safar, 1443

سینٹرل جیل کراچی میں ایم کیوایم لندن کاکارکن انتقال کرگیا

SAMAA | - Posted: Jul 3, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 3, 2021 | Last Updated: 3 months ago

سینٹرل جیل کراچی میں قید ایم کیو ایم کا کارکن انتقال کرگیا، جسے مئی 2021ء میں سیکیورٹی اداروں نے دیگر دو ساتھیوں سمیت بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تربیت لینے اور 6 رکنی ٹارگٹ کلنگ ٹیم چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

جیل حکام کے مطابق 64 سالہ انڈر ٹرائل ملزم نعیم احمد کی حالت ہفتے کی صبح 5 بجے خراب ہوئی، جسے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج صبح 8 بجے انتقال کرگیا۔

جیل حکام کا کہنا ہے کہ نعیم کے انتقال کی وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوں گی۔

ایک سیکیورٹی ایجنسی نے 28 مئی 2021ء کو کراچی کے علاقے لانڈھی ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک کارروائی کے دوران ایم کیو ایم لندن سے تعلق رکھنے والے 3 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔ مشتبہ افراد کی شناخت نعیم احمد، عرفان احمد اور علیم الدین کے ناموں سے ہوئی تھی۔ سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران ملزمان سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔

فورسز کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان نے بھارتی خفیہ ایجنسی را (ریسرچ اینڈ انالسٹ ونگ) سے تربیت حاصل کرکے جنوبی افریقا میں مقیم قیادت کی ہدایت پر ٹارگٹ کلنگ ٹیم قائم کی تھی۔ گرفتار ملزمان کو بعد ازاں قانونی کارروائی کیلئے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے حوالے کردیا گیا تھا۔

ملزمان کے بیانات کی روشنی میں سی ٹی ڈی نے ایم کیو ایم کے سابق رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس احمد ایڈووکیٹ کو 4 جون کو طلب کیا تھا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار مشتبہ افراد سے دو دہائیوں قبل حیدرآباد میں ہونیوالے دہشت گرد حملوں سے متعلق سوالات کئے گئے تھے۔

ایم کیو ایم سے بے دخل سینئر رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس احمد ایڈووکیٹ 5 جون کو سی ٹی ڈی میں پیش ہوئے اور تفتیش کاروں کے سوالات کے جواب دیئے، تاہم کچھ روز بعد محکمہ انسداد دہشت گردی نے انیس ایڈووکیٹ کو دوبارہ طلب کیا اور ان کا پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ اور موبائل فون ضبط کرلیا تھا۔

انیس احمد ایڈووکیٹ سے کہا گیا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کارکنوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی را میں تربیت کیلئے بھرتی کریں۔

گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر سی ٹی ڈی اور وفاقی سیکیورٹی ایجنسی نے 21 جون کو میرپور خاص میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ان کے مزید 2 ساتھیوں عبدالنعیم اور وجیہ کو حراست میں لیا تھا۔

عبدالنعیم اور وجیہ نے تحقیقات کے دوران سی ٹی ڈی کو بتایا کہ وہ ایم کیو ایم کارکنوں کی بھارت میں تربیت کے نظام کا حصہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انیس احمد ایڈووکیٹ اور واسع جلیل 1998ء سے 2002ء کے دوران اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے ایم کیو ایم کارکنوں کو تربیت کیلئے بھارت بھیجتے تھے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کارکنوں کا انتخاب ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر انٹرویو کے دوران کیا جاتا، جس کے بعد انہیں طویل عرصہ کیلئے تربیت لینے بھارت بھجوایا جاتا تھا۔

گرفتار ملزمان نے بتایا کہ ان کارکنوں کا انٹرویو اور انتخاب انیس احمد ایڈووکیٹ اور واسع جلیل کرتے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube