Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

قومی اسمبلی اجلاس: بلاول اور شاہ محمود کےایک دوسرے پر لفظی حملے

SAMAA | - Posted: Jun 30, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 30, 2021 | Last Updated: 4 months ago

سخت الزامات عائد کئے

قومی اسمبلی اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کئے اور کڑی تنقید کی۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کی تقریر کے بعد انھیں آڑے ہاتھوں لیا اور ایوان سے اٹھ کر جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ شاہ محمود نے کہا کہ ایوان میں روایات کی بات کرنے والے اٹھ کرچلے گئے۔بلاول بھٹو کو چاہئے کہ وہ میدان میں آئیں اور بات کریں۔ شاہ محمود کی یہ بات سننے کے بعد بلاول بھٹو دوبارہ ایوان میں واپس آکر اپنے نشست پر بیٹھ گئے۔

شاہ محمود نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کے اراکین اسپیکرقومی اسمبلی کا احترام نہیں کرتے۔اسپیکر سے اختلاف ہوسکتا ہے اور ان سے چیمبر میں جا کر بات کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے بلاول بھٹو کو مخاطب کرتےہوئے کہا کہ آپ کون سی پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو بجٹ پر تقریر نہیں کرنے دی گئی اور سندھ میں بجٹ پر بحث کو سمیٹنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے تقریر نہیں کی۔ سندھ اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپوزیشن کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ کیا میثاق جمہوریت میں اپوزیشن لیڈر کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا طے نہیں پایا تھا۔ کیا سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو چیئرمین پی اے سی بنایا گیا۔

شاہ محمود نے بلاول کو کہا کہ آپ آئینہ دکھاتے ہیں لیکن خود نہیں دیکھتے ہیں۔کل ایوان میں بجٹ پر ووٹنگ بھی کروائی گئی اور ایوان میں ڈویژن ووٹنگ بجٹ پر نہیں ہوتی۔اپوزیشن ارکان نے بجٹ پر کٹوتی کی تحاریک پیش کیں اور ہرکٹوتی کی تحریک پر بحث ہوئی۔ وزرا اور وزیر خزانہ نے اپوزیشن کی بحث کا جواب دیا اور ہر چیز رولز کے مطابق ہوئی تو مسئلہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی پارلیمانی روایت تھی کہ اپوزیشن لیڈر بجٹ اجلاس سے غائب ہو گئے اورنون لیگ کے 25 ارکان اجلاس سے کہاں چلے گئے تھے۔

شاہ محمود نے پیش کش کی کہ مل بیٹھ کر کام کریں اوراپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کو سنے تاکہ معاملات آگے بڑھیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اپوزیشن شور شرابہ کرے اور مرضی کرے۔ اگر وزیر اعظم کو پہلے دن تقریر کرنے دی جاتی تو اچھا تھا لیکن اگرعمران خان نہیں بولے گا تو بلاول اور شہباز شریف بھی نہیں بولیں گے۔

اس کے بعد اسپیکرقومی اسمبلی نے بلاول بھٹو زرداری کو ایوان میں بولنے کا وقت دیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھے فاضل ممبران کے سوالوں کا جواب دینے دیں۔جتنا  پاکستان پیپلزپارٹی فاضل ممبر ملتان کو جانتی ہے اتنا کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان کو پتہ چل جائے گا کہ فاضل ممبر ملتان کیا چیز ہے۔عمران خان صاحب کو چاہئے کہ  شاہ محمود قریشی کو پہچانے کیوں کہ اس فاضل ممبر کو بچپن سے جانتا ہوں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ فاضل ممبر نے اس پارٹی کی بات کی جس نے ان کو وزیر خارجہ بنایا تھا اور اس ممبر کو جئے بھٹو کے نعرہ لگاتے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ اس ممبر کو اگلی باری پھرزرداری کا نعرہ لگاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

چئیرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وزیر خارجہ کشمیر کے سودے میں ملوث ہے۔جب افغانستان سے امریکا اپنی فوج کے انخلا کی بات کررہا ہے،کم از کم وزیرخارجہ یہاں تقاریر کرنے کے بجائے امریکی صدر جو بائیڈن کی ایک ٹیلی فون کال کا بندوبست کردے۔

شاہ محمود پر براہ راست تنقید کرتےہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ فاضل ممبر وزیراعظم کے لئے بہت  بڑا خطرہ بننے والا ہے اور اگر یہ صوبہ جنوبی پنجاب نہیں دے سکیں گے تو یہ انتخاب بھی نہیں لڑسکیں گے۔ ان کے اپنے وزیراعظم نے ان کی اتنی بےعزتی کی کہ یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ آئی ایس آئی کو کہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود کا ٹیلی فون ٹیپ کرے۔

بلاول بھٹو نے شاہ محمود پر الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی دور میں بطور وزیر یوسف رضاگیلانی کے خلاف وزارت اعظمی کے لیے لابنگ کرتے تھے اور اس لئے ان کو وزارت سے فارغ کیا گیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
Bilawal aur Shah Mehmood kay aik dosray per ilzamat,بلاول بھٹو،شاہ محمود وقریشی،قومی اسمبلی اجلاس،
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube