Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

کراچی چڑیا گھر کی ’’رانو‘‘ کس حال میں ہے؟

SAMAA | - Posted: Jun 25, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 25, 2021 | Last Updated: 3 months ago

گزشتہ سال کراچی چڑیا گھر کی واحد مادہ ریچھ “رانو” کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اسے پنجرے میں تنہاء غراتے اور روتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

شام سے تعلق رکھنے والی اس مادہ ریچھ کو اب سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر بڑے پنجرے میں منتقل کردیا گیا ہے جو کہ پرانے پنجرے سے 500 گنا بڑا ہے لیکن نئے پنجرے میں بھی رانو کی اداسی ختم نہیں ہوئی۔

رانو کا نیا پنجرہ اس کے پرانے پنجرے کے برابر میں ہے۔ یہ پنجرہ 2100 مربع فٹ چوڑا ہے اور زمین کے برابر ہے۔ پنجرے میں ایک تالاب بھی ہے جہاں سے جانور پانی پینے کے علاوہ نہا بھی سکتے ہیں۔ یہاں پر 3 درختوں کے تنے بھی رکھے گئےہیں تاکہ رانو ان پر چڑھ سکے۔

اگر کوئی پہلی بار چڑیا گھر جائے تو اسے رانو ایک عام ریچھ کی طرح دکھائی دے گی۔ لیکن اگرآپ نے اس کے پرانے پنجرے کو دیکھا ہے تو آپ کو وہ نئے پنجرے میں پہلے سے مختلف انداز میں دکھائی دے گی اور اس نے غرانا اور کراہنا بند کردیا ہے۔

چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق رانو کی حالت بہتر ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹرعابدہ رئیس نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ لوگ یہاں آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جانور کی حالت ٹھیک نہیں۔ چڑیا گھر انتظامیہ اس کی مکمل دیکھ بھال کررہی ہے اور اس کی صحت سے متعلق بھرپور آگاہ ہیں۔

رانو کا نیا پنجرہ کافی کشادہ ہے اور اس میں تالاب کے علاوہ مٹی اور کافی سائے دار جگہ بھی ہے۔ یہاں پر اس کی حالت مکمل ٹھیک ہے۔

رانو کے رکھوالے رامو نے بتایا کہ ریچھ نے اچھے انداز میں کھانا شروع کردیا ہے اور روزانہ دن میں ایک بار اس کو کھانا دیا جاتا ہے۔ اس کی خوراک میں پھل، روٹی اور ڈرائی فروٹ شامل ہیں۔ جانوروں کے ڈاکٹر دن میں تین بار اس کا معائنہ کرتے ہیں اور اس کی عادتوں میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

نیا پنجرہ، پرانے مسائل

نئے پنجرے اور نئے ماحول کے باوجود رانو کی چال تبدیل نہیں ہوئی۔ وائلڈ لائف کے ماہر زوہیر علی شریف نے بتایا کہ اگرچہ چڑیا گھر انتظامیہ نے اس کے لیے ماحول تبدیل کیا ہے لیکن اس کی عادتوں اور رویے کو بہتر بنانے کےلیے طویل خلیج برقرار ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ریچھ عام طور پر 10 سے 12 کلومیٹر روز چلتے ہیں۔

زوہیر علی کا کہنا تھا کہ شام کے براؤن رنگ کے ریچھ کو زمین پر اگنے والا سبزہ، جنگل کا ماحول اور اونچی نیچی گہاٹیاں چاہئے ہوتی ہیں۔ یہ ماحول ان جانوروں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ رانو کی تفریح کے لیے سامان ہونا چاہئے ورنہ وہ اداس ہوجائے گی اور ڈپریشن کا شکار ہوسکتی ہے۔

اس کے اس انداز میں چلنے کی وجہ بوریت ہے۔ پنجرے میں قید کے دوران اس کے پاس کرنے کے لیے کوئی کام نہیں ہوتا۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو وہ خود کو دیواروں سے مار کر زخمی کرسکتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے رکھوالے کو اس چیز کی تربیت دینا ہوگی کہ وہ اس کے رویوں کو پرکھیں مگر یہاں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کے رکھوالوں کو چائیے کہ وہ اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نئےطریقے استعمال کریں۔اس کے لیے انھیں زیادہ جدوجہد بھی نہیں کرنا پڑے گی۔ انھوں نے ایک طریقہ بتایا کہ ریچھ کے پنجرے میں درخت کے تنے پر شہد رکھ دیا جائے۔ ایسا کرنے سے رانو کچھ لمحوں میں شہد کی طرف لپکے گی اور شہد کو چاٹنے کی کوشش کرے گی۔ ایسا کرنے کے لیے رکھوالے کو صرف 30 منٹ کا وقت لگے گا لیکن ریچھ کئی گھنٹے تک اس میں مشغول ہوسکتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ریچھ اکیلے رہنے کے عادی ہوتے ہیں اور تنہا ہی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا ریچھ پنجرے میں لایا جائےتو کام مزید بڑھ جائے گا۔اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ دوسرا ریچھ بھی اس ہی نسل کا ہو جو پہلی ریچھ کی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دونوں ریچھ ایک دوسرے کو قبول کررہے ہیں اور ممکنہ طور پر انھیں علیحدہ رکھنا ہوگا اور ایک ساتھ ہونے کی صورت میں ان کی نگرانی اہم ہوگی۔

زوہیر علی نے کہا کہ اس ریچھ کو دیوسائی کے پہاڑوں میں بھی بھیج سکتے۔رانو نے اپنی پوری زندگی قید میں گزاری ہے۔ کسی ریچھ کے لیے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ کس طرح اس انداز میں جنگلات میں جاکر خطرناک جانوروں سے لڑسکتا ہے؟۔ رانو اس ماحول میں ایک روز بھی زندہ نہیں رہ سکتی ہے۔ اس وقت یہ ہوسکتا ہے کہ اس کے پنجرے کے ماحول کو بہتر بنایا جائے۔

رانو کی درخواست

پچھلے برس سندھ ہائی کورٹ میں بیرسٹر محسن شہوانی نے 38افراد کے دستخط سے درخواست دائر کی جو رانو کو قید میں رکھنے کے خلاف تھی۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ رانو کو ایک چھوٹے سے پنجرےمیں قید رکھا گیا ہے اور اس کو وقت پر خوراک نہیں دی جاتی ہے اور اس کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ریچھ کو دوبارہ اسکردو بھیج دیا جائے جہاں اس کے خاندان کے دیگر جانور بھی موجود ہیں۔اس کے علاوہ ریچھ کو جنگی حیات کی پناہ گاہ بھی بھیجاجاسکتا ہے کیوں کہ کراچی کی آب و ہوا رانو کے لیے سازگار نہیں۔

محسن شہوانی کا کہنا تھا کہ کراچی چڑیا گھر کی حالت بہت خراب ہے اور یہ جگہ یہاں موجود جانوروں  کےلیے خطرناک ہے۔ کراچی میٹروپولیٹیکل کارپوریشن کے پاس اتنے فنڈز یا تربیتی عملہ نہیں کہ جانوروں کی دیکھ بھال کی جاسکے۔

کیس کی 5 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے ہدایت کی تھی کہ 48 گھنٹوں کے اندر رانو کے پنجرے میں ائیرکولر یا ائیرکنڈیشنر نصب کیا جائے۔

اس کے بعد 23 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں سندھ ہائی کورٹ نےحکم دیا تھا کہ رانو کو 500 گنا بڑے پنجرے میں منتقل کیا جائے۔ عدالتی احکامات چڑیا گھر کے سنیئر ڈائریکٹر اور کے ایم سی کو بھیجوائے گئے۔یہ ہدایات عبوری طور پر دی گئیں جب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔

محسن شہوانی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ عدالت میں درخواست التوا کا شکار ہے اور اگست میں کیس کی مزید سماعت ہوگی۔ درخواست گزاروں کی خواہش ہے کہ رانو کی بحالی اور اس کو رکھنے کے لیے بہتر انتظامات کئے جائیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube