Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

دودھ فروش وزن میں ڈنڈی مار کرآپ کو کتنا لوٹتےہیں؟

SAMAA | - Posted: Jun 25, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 25, 2021 | Last Updated: 3 months ago

جانیے لیٹر اور سیر کا ہیر پھیر

پاکستان میں ناپ تول کا اعشاری نظام رائج ہوئے کئی دہائیاں بیت چکیں لیکن ملک کے مختلف حصوں کی طرح کراچی کے بیشتر علاقوں میں بھی دودھ فروش اب تک لیٹر کی بجائے سیر کے پیمانے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس سے ان کا منافع مزید بڑھ جاتا ہے۔

دودھ فروشوں کو لیٹر کی قیمت وصول کرنے کے باوجود سیر کا پیمانہ استعمال کرتے ہوئے 50 ملی لیٹر کی بچت ہوجاتی ہے جس کے ذریعے انہیں فی لیٹر کم از کم ساڑھے 6 روپے کا اضافی فائدہ حاصل ہو جاتا ہے اور غالب امکان ہے کہ اس بات سے بیشتر گاہک بے خبر ہی ہوں۔

ملک میں اعشاری نظام جنوری 1961 میں رائج ہوگیا تھا جس کے بعد کپڑا ناپنے کا پیمانہ گز سے میٹر میں تبدیل ہوگیا تھا جبکہ ٹھوس اشیاء کو تولنے کے لیے سیر کی جگہ کلو گرام اور مائع اشیاء کی پیمائش کے لیے سیر کی جگہ لیٹر نے لے لی تھی۔

اعشاری نظام کے تحت کلو گرام کو ایک ہزار گرام کے مساوی قرارد یا گیا جب کہ اس سے قبل ٹھوس اشیاء کو ناپنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک سیر سوا کلو گرام کے مساوی جبکہ ایک من 50 کلو گرام کے برابر ہوا کرتا تھا۔ کلو گرام کے پیمانے کے حساب سے اب من 40 کلو گرام کا ہوتا ہے۔ کلو گرام آنے کے بعد بھی ٹھوس اشیاء میں استعمال ہونے والا سیرکافی عرصے تک استعمال ہوتا رہا بلکہ دیہاتوں میں اب بھی پرانا سیراور پرانا من زیر استعمال ہے لیکن یہ دونوں پیمانے لین دین کرنے والوں کے علم میں ہوتے ہیں اور اسی کے حساب سے نرخ بھی کم زیادہ ہوتے ہیں۔

اس نظام کے تحت مائع اشیاء کو ناپنے کے کے لیے لیٹر کا پیمانہ ہزار ملی لیٹر کے مساوی قرار دیا گیا جب کہ مائع کو ناپنے والا پرانا سیر 950 گرام کا اور من ساڑھے 37 لیٹر کا ہوتا تھا۔ ابتداء میں توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ دیگر پرانے پیمانوں کی طرح دودھ فروشوں کے ہاں بھی سیر کی جگہ نئے لیٹر کے پیمانے جگہ لے لیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا اور 60 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نئے پیمانوں کے ساتھ دودوھ فروشوں نے پرانے پیمانے زندہ رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ اس کے زریعے وہ 50 ملی لیٹر کی ہیر پھیر کر لیتے ہیں۔

شہر کے مختلف علاقوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق سیر اور لیٹر کے پیمانوں میں ہیر پھیر کرنے والوں کی شرح 50 فیصد سے زائد ہے خاص طور پر گھروں میں دودھ سپلائی کرنے والے بیشتر دودھ فروش سیر کے پیمانے سے ہی دودھ بیچتے ہیں جب کہ کچی آبادیوں میں بھی سیر کے پیمانے سے دودھ فروخت ہوتا ہے البتہ ملاوٹ کرکے اور سیر کا پیمانہ استعمال کرکے ان علاقوں میں دودوھ کی قیمت نسبتاً کم بھی رکھی جاتی ہے۔

گلشن اقبال، ناظم آ باد، گلستان جوہر سمیت دیگر متوسط علاقوں میں دونوں پیمانے استعمال ہوتے ہیں جب کہ بیشتر معروف ملک ریٹیلرز لیٹر میں فروخت کرتے ہیں۔

دودھ کی سرکاری قیمت94 روپے فی لیٹر ہے لیکن اس کے برعکس شہر بھر میں دودھ 130 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے دودھ فروش لیٹر کی بجائے سیر کے پیمانے سے ایک ہزار ملی لیٹر کی جگہ 950 ملی لیٹر دودھ فروخت کرکے فی لیٹر 6.5 روپے اضافی کماتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے چھوٹا دودھ فروش بھی یومیہ ایک من دودھ بیچ لیتا ہے جب کہ بڑی دکان والوں کی فروخت کا تو اندازہ ہی کرنا محال ہے۔ ان میں سے ایسے عناصر جو سیر اور لیٹر میں ہیر پھیر کرتے ہیں وہ اس کے ذریعے فی من 260 روپے صارفین سے اضافی بٹورتے ہیں۔

دودھ کے تھوک فروش (ہول سیلرز) جس من والے ڈبے کے ذریعے دودھ سپلائی کرتے ہیں اس کا وزن بھی ساڑھے 37 لیٹر ہوتا ہے لیکن وہ قیمت بھی 40 لیٹر نہیں بلکہ ساڑھے 37 لیٹر کے حساب سے لیتے ہیں۔

ہول سیلرز اب تک پرانا من چلا کیوں رہے ہیں؟

ڈیری شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق حیدرآباد میں 40 لیٹر والے ڈبے کا استعمال شروع ہوگیا ہے جب کہ کراچی میں بمشکل 5 فی صد ہی 40 لیٹر والے ڈبے زیر استعمال ہیں۔ ڈیری فارمزر کافی عرصے سے کوشش کررہے ہیں کہ 40 لیٹر والے ڈبے استعمال کیے جائیں لیکن ہول سیلرز ساڑھے 37 لیٹر والے ڈبے چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں کیوں کہ انہیں ڈبے کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے کرائے میں کمی کی صورت میں نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آل کراچی ملک ریٹیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالوحید گدی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ریٹیلرز تو وزن میں ڈنڈی نہیں مارتے لیکن ہر شعبے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں ہمارے شعبے میں بھی بعض دودھ ریٹیلرز ایسے ہیں جو ملاوٹ اور وزن میں کمی کے ذریعے اپنی حلال کمائی میں حرام شامل کرلیتے ہیں۔

عبدالوحید گدی کا کہنا تھا کہ ان کی ایسوسی ایشن اس کے خلاف آواز بھی اٹھاتی ہے لیکن یہ ذمہ داری اصل میں ویٹ اینڈ میژرمنٹ ڈپارٹمنٹ کی ہے جسے پیمائش کے آلات کی چیکنگ کرنی چاہیے لیکن وہ اپنے دفاتر سے نکلنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ایسی من مانی جاری ہے اور لوگ سیرکو لیٹر بتاکر بیچ رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube