لاہوردھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے متعلق سنسنی خیز انکشافات

SAMAA | and - Posted: Jun 24, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jun 24, 2021 | Last Updated: 1 month ago

حساس اداروں نےایرپورٹ سے مشتبہ شخص کو گرفتارکرلیا

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 23 جون کے روز دھماکے میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے والی گاڑی سے متعلق مزید انکشافات منظر عام پر آگئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے سے قبل گاڑی کو 2 مرتبہ شہر میں دیکھا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی بابو صابو سے داخل ہوئی۔ گاڑی بدھ 23 جون کی صبح 9 بج کر 40 منٹ کے قریب شہر میں داخل ہوئی۔

بابو صابو ناکے پر گاڑی کی چیکنگ بھی ہوئی تھی۔ گاڑی اس سے قبل بھی شہر میں 2 مرتبہ دیکھی گئی۔ گاڑی میں بارودی مواد کس مقام سے رکھا گیا اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

بابو صابو انٹر چينج پر پولیس اہلکار نے گاڑی کی ڈگی کھولنے کا کہا تو اس میں سوار شخص نے ڈگی خراب ہونے کا بہانہ بنايا۔ ڈرائيور جوہر ٹاؤن جانے کیلئے جناح اسپتال کی طرف چلا گيا۔ گاڑی ميں سوار شخص نے لوگوں سے 2 بار مطلوبہ ايڈريس بھی پوچھا۔

لاہور دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا

دوسری جانب لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے والی گاڑی کی تصویر بھی سامنے آگئی۔ تصویر بابو صابو ناکے پر سیف سٹی کیمروں سے حاصل کی گئی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی 2010ء میں ڈکیتی میں چھینی گئی تھی۔ گاڑی چھیننے کی واردات کا مقدمہ گوجرانوالہ کے تھانہ کینٹ میں درج ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بدھ 23 جون کو لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں دھماکا ہوا تھا جس میں 3 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کی جیو فینسنگ بھی مکمل کر لی ہے۔

قبل ازیں حساس ادارے کے اہل کاروں نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے غیر ملکی شخص کو حراست میں لیا۔ گاڑی کے مالک کو کراچی جانے والی فلائٹ سے آف لوڈ کیا گیا۔ حساس ادارے نے مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے شواہد محفوظ کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔ جائے وقوعہ سے بال بیرنگ، لوہے کے ٹکڑے اور گاڑی کے پارٹس جمع کرلئے گئے، دھماکے کی جگہ سے بارودی مواد کے کیمیکل ایگزامینیشن کے لیے سیمپل بھی اکٹھے کئے گئے۔ سی ٹی ڈی کے مختلف شہروں میں چھاپے جاری ہے، جس میں کئی مشکوک افراد کو زیر حراست لے لیا۔

جوہر ٹاؤن میں دھماکے کا مقدمہ 23 جون کی رات تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا۔ مقدمہ انسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے کارروائی کیلئے گاڑی اور موٹر سائیکل کا استعمال کیا، قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے گاڑی کے مالک کو حافظ آباد سے حراست میں لے لیا۔ گاڑی اوپن لیٹر پر فروخت کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں 15 سے 20 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ بال بیرنگ بھی استعمال ہوئے۔ دھماکا خیز مواد کار میں نصب تھا۔ دھماکے کی جگہ تین فٹ گہرا اور 8 فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔

گاڑی آخری بار 20 جون کو فروخت ہوئی، کار 3 دن پہلے چنیوٹ کے رہائشی عمران کو فروخت کی گئی۔ کار نمبری ایل ای بی 9928 کار 2009 میں ظفراللہ نام کے شہری نے برانڈ نیو خریدی تھی۔ ظفراللہ نے 2010 میں کار شکیل نامی شخص کو فروخت کر دی تھی۔ شکیل نے لیاقت نامی شخص کے ذریعے حافظ آباد پولیس کے سب انسپکٹر نور محمد کو یہ گاڑی فروخت کر دی تھی۔ نور محمد سب انسپکٹر نے بذریعہ شوروم پنڈی بھٹیاں کار نعیم ہنجرا نامی شخص کو فروخت کر دی۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ نعیم ہنجرا نامی شخص نے 20۔6۔2021 بذریعہ اشٹام پیپر یہ گاڑی سید عمران علی ولد غلام محمد کو فروخت کی۔ آخری خریدار سید عمران کا تعلق تحصیل بھوانہ ضلع چنیوٹ سے ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
LAHORE DHAMAKA, LAHORE DHAMAKAY MEIN ISTEMAL, GARI, LAHORE MEIN HAMLA, HAFIZ SAEED KAY GHAR , KAY QAREEB,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube