Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

وزیراعظم کے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرکے دورے پروزیرخارجہ کاتبصرہ

SAMAA | - Posted: Jun 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر ہنگامی نہیں بلکہ معمول کا وزٹ تھا اور وزیراعظم وہاں مختلف معاملات پر بریفنگ لینے جاتے ہیں۔
سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم اور آئی ایس آئی افسران کی میٹنگ میں افغانستان سے متعلق کوئی بات ہوتی تو میں ضرور اس اجلاس میں شرکت کرتا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم امریکی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور امریکی حکومت کے مقرر کردہ فوکل پرسنز سے ہماری بات چیت ہوتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف سے رابطہ کیا بھی تھا تو اہم بات یہ ہے کہ اس سے فائدہ کیا ہوا تھا۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کو افغان امن عمل پاکستان کے کردار کا احساس ہے اور امریکی انتظامیہ اس کی معترف ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دوٹوک بیان کے بعد امریکا کو فوجی اڈے دینے سے متعلق قیاس آرائیوں کو اب دم توڑ دینا چاہیے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات کا بہتر طور پر وہاں کی مقامی حکومت ہی بتا سکتی ہے لیکن ہماری خواہش یہ ہے کہ تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے نکلے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں مذاکرات بہترین آپشن ہے ورنہ کوئی قبضہ کرے گا تو اس کے بعد کوئی دوسرا قبضہ چھڑانے آئے گا اور اس سے تشدد میں اضافہ ہوگا۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات میں تعطل آیا ہے تو اس مسئلے کا حل افغانوں کو آپس میں بیٹھ کر نکالنا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube