Saturday, September 18, 2021  | 10 Safar, 1443

طالبان کا افغانستان کے 60 اضلاع پر قبضہ ہوچکا

SAMAA | - Posted: Jun 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago

سینیئر صحافی کی سات سے آٹھ میں گفتگو

سینیئر صحافی اور دفاعی تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کے انخلاء کے آغاز کے بعد افغان طالبان یکم مئی سے ملک کے 60 اضلاع پر قبضہ کرچکے ہیں۔

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ طالبان افغان آرمی کو وائرلیس کے ذریعے پیغام بھیجتے ہیں اور وہ ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور بعد میں عمائدین کی ضمانت پر طالبان فوجیوں کی جاں بخشی کرکے انہیں کرایہ دے کر رحصت کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے ابھی تک کسی بڑے شہر پر قبضہ نہیں کیا لیکن ملک کے 5 بڑے شہروں کے ارد گرد طالبان موجود ہیں اور وہ جب چاہے وہاں داخل ہوسکتے ہیں۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اگر طالبان افغانستان میں اپنی حکومت کا اعلان کرتے ہیں تو پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا کیوں کہ پاکستان کا مؤقف یہ ہے طالبان بات چیت کا سلسلہ معطل نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرا افغان مذاکرات ابھی رسمی طور پر حتم تو نہیں ہوئے مگر اب تک صرف ایک بات پر اتفاق ہوا ہے کہ مذاکرات کا روڈمیپ کیا ہوگا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ پہلے جنگ بندی کی بات ہو جبکہ طالبان کی خواہش ہے کہ سب سے پہلے نظام حکومت کی بات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی خواہش ہوگی کہ وہ مزید پیش قدمی کرکے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کریں اور اس صورتحال میں کمزور فریق افغان حکومت کو لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کا عمل حتم ہوگیا اور جنگ شروع ہوگئی تو یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان جنگ کے ذریعے حکومت بنا بھی لیں تب بھی دنیا اسے تسلیم نہیں کرے گی اس لیے طالبان بھی مذاکرات حتم کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube