عثمان کاکڑ کا انتقال: بیماری،حادثہ یا قتل؟

SAMAA | - Posted: Jun 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: قومی اسمبلی

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی وفات پر سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں اور اہل خانہ و پارٹی رہنماؤں کے تشکیک پر مبنی بیانات کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔

عثمان کاکڑ 17 جون کو کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ میں بظاہر گر کر زخمی ہوئے تھے اور ان کے سر پر چوٹ لگی تھی جس کے بعد انہیں کوئٹہ کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن ہوا اور  بعد میں انہیں 19 جون کو کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

 عثمان کاکڑ 3 دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد پیر 21 جون کو زندگی کی بازی ہارگئے۔ ان کی میت منگل کی صبح کراچی سے کوئٹہ کے راستے مسلم باغ روانہ کی گئی جہاں بدھ 23 جون کی شام ان کی تدفین متوقع ہے۔

انتقال کے اعلان کے بعد ان کے بیٹے خوشحال کاکڑ نے کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا کہ وہ گھر میں گرکر زخمی ہوئے تھے بلکہ ہمیں تو وہ گھر میں پڑے ہوئے ملے تھے اور اس جگہ ایسی کوئی چیز ہی نہیں تھی جس سے ان کے سر پر اتنی گہری چوٹ لگ سکتی۔

خوشحال کاکڑ نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ ان پر وار کیا گیا ہے اور یہ بات ہمیں ڈاکٹروں نے بھی بتائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چوٹ ان کے سر کے بالائی حصے پر لگی ہے اور یہ کام منصوبہ بندی سے کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر عثمان کاکڑ کی سینیٹ سے خطاب کی ویڈیو بھی گردش کررہی ہے جس میں وہ چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں کہ مجھے اور میرے خاندان کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔

آج 22 جون کو ہونے والے سینیٹ اجلاس میں بھی اپوزیشن اراکین نے سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے گھر میں زخمی ہونے کے بعد ان کے انتقال پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے کہا کہ عثمان کاکڑ کا خاندان واقعے کی  تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عثمان کاکڑ کے مشکوک حالت میں انتقال پر مختلف طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات اس ایوان کی ذمہ داری بنتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرامند تنگی نے کہا کہ اگر خاندان تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے تو ایوان اس مطالبے کو پورا کرے۔

 پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا مؤقف

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نوراللہ ترین نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس حوالے باقاعدہ موقف کل ان کے جنازے پر کرے گی کہ آیا ان کی موت طبعی ہے یا قتل۔

نوراللہ ترین کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے قتل کیا گیا ہے اور عثمان کاکڑ نے ان خدشات کا اظہار اپنی زندگی میں بھی کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ گرگئے تھے تو ان کے باقی جسم پر زخموں کے نشانات کیوں نہیں ہیں صرف سر پر کیسے نشان لگ گیا یہ بات عقل نہیں مانتی۔

نوراللہ ترین کا کہنا تھا ایسا لگتا ہے کہ ان کے سر پر کسی بھاری چیز سے وار کیا گیا ہے جن سے ان کی شہادت ہوئی ہے اور یہ کام منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے۔

ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ

کراچی کے جناح اسپتال کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عثمان کاکڑ کی موت طبعی قرار دی گئی ہے تاہم مکمل رپورٹ کیمیکل، پیتھولوجیکل معائنے کے بعد کچھ دنوں میں آئے گی۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاش پر کسی تشدد یا جسمانی زخم کے نشانات نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سابق سینیٹر کی موت کی وجہ برین ہیمبرج سے ہوئی۔

عثمان کاکڑ کے ذاتی معالج کا مؤقف

عثمان کاکڑ کے ذاتی معالج ڈاکٹر صمد کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی وجہ ان کے دماغ میں چوٹ ہے جس کی وجہ سے سر میں خون جمع ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ کے اہل خانہ کو وہ ڈرائنگ روم میں قالین پر ملے تھے اور ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا تاہم یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ عثمان کاکڑ کو کیسے چوٹ لگی۔

بلوچستان حکومت کا مؤقف

صوبائی وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو کا کہنا ہے کہ لیبارٹری رپورٹ میں صورتحال واضح ہے کہ عثمان کاکڑ کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی ہے سر کے علاوہ جسم کے کسی حصے پر زخم کا کوئی نشان نہیں ہے۔

ضیاء لانگو کہتے ہیں کہ عثمان کاکڑ کے انتقال کو ملک دشمن عناصر غلط رنگ دے رہے ہیں اور رپورٹس میں صورتحال واضع ہیں تاہم صوبائی حکومت اس حوالے سے اہل خانہ کی ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہے۔

عثمان کاکڑ کا سیاسی سفر

عثمان کاکڑ سن 1961 میں مسلم باغ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کوئٹہ کے اسلامیہ اسکول سے کرنے کے بعد انہوں نے بہاولپور سے انجنیئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا جبکہ لاء کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی بھی کیا۔

انہوں نے سن 1977 میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے سیاست شروع کی وہ زمانہ طالب علمی سے سیاست میں متحرک رہے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی سیاست میں  شامل ہوئے۔

پارٹی کے صوبائی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ عثمان کاکڑ سن 2015 میں پشتونخوا میپ کے ٹکٹ پر بلوچستان سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube