Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

اسلامک یونیورسٹی میں طالبعلم کا گینگ ریپ

SAMAA | - Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago

FSD child abuse

اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ہاسٹل میں ایک 22 سالہ طالب علم کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کا انکشاف ہوا ہے۔
سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے ریکٹر اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے بتایا کہ یہ مذموم حرکت قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کے ساتھ کی گئی اور اس میں ملوث 2 طباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر معصوم کا کہنا تھا کہ زیادتی کرنے والے دونوں ملزمان اسلامک یونیورسٹی میں پڑھتے تھے جن کی عمر 24 سے 25 سال کے درمیان ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہاسٹل کے سیکیورٹی آّفیسر کو بھی ہٹادیا گیا ہے اور معاملے کو متعلقہ پولیس اسٹیشن کے علم میں لایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم معاملے کو چھپا رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کیوں کہ یہ معاملہ جیسے ہی ہمارے علم میں آیا ہم نے تمام ممکنہ اقدامات کیے۔
ڈاکٹر معصوم نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کی نشاندہی پر ہم نے دونوں طلباء کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس بلایا اور اسی وقت ان طلباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا۔
ملک میں پے درپے ایسے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر معصوم کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ہماری ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے اور ہمیں ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے طلباء مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب ہوسکیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت زرتاج گل وزیر کا کہنا تھا کہ آج سینیٹ میں ایک بل پاس ہوا ہے جس میں کیسٹریشن کا بھی ذکر ہے اور ہم تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ایسے لوگوں کو پھانسی پر لٹکانا چاہیے۔
زرتاج گل کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو معاشرے کی اصلاح کرنی تھی وہ خود اس قسم کے جرائم میں ملوث ہورہے ہیں۔
انہوں نے لاہور واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور علماء کرام کو اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ مدارس میں اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
زرتاج گل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی اس معاملے پر سخت سزائیں دینے کے حق میں ہے مگر تمام طبقات اور سول سوسائٹی کو معاملے پر حکومت کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ قوم کی اجتماعی دانش پارلیمنٹ سے آتی ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ موجودہ قوانین پر ملزمان کو سزائیں کیوں نہیں مل رہی ہیں اور اس حوالے سے ہمیں اصلاحات کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ قصور کے واقعہ پر ہم نے قانون بنایا تھا مگر موجودہ دور میں پارلیمنٹ کا ماحول ہی ایسا نہیں ہے کہ ایسے معاملے پر کوئی فیصلہ کرسکیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube