Thursday, October 28, 2021  | 21 Rabiulawal, 1443

عزیزالرحمان کیس: مفتی طارق مسعود کا بیان سامنے آگیا

SAMAA | - Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 4 months ago

کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مفتی طارق مسعود کا کہنا ہے کہ اگر کسی یونیورسٹی میں کوئی ریپ ہوجائے تب بھی جرم ہے لیکن اگر کسی مدرسے کا معلم ایسا فعل انجام دے تو اس کی سزا دوگنی ہونی چاہیے کیوں کہ اس شخص پر مذہب کا لیبل لگا ہوتا ہے۔
سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ اس بدفعلی کا دفاع کرنا غلط رویہ ہے جس نے جرم کیا ہے اس کو سزا ملنی چاہیے تاہم چند لوگوں کی وجہ سے تمام علماء کرام پر تنقید مناسب نہیں۔
مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں لیکن اس قسم کا جرم جس شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا کرے گا ہم اس کی مخالفت کریں گے لیکن ایسے قبیح عمل کو کسی خاص طبقے سے نتھی نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں گناہوں پر پردہ ڈالنے کا بھی حکم ہے مگر وہ صرف ان جرائم پر ہے جس سے معاشرے کو کوئی خطرہ نہ ہو لیکن جو ویڈیو سامنے آئی ہے یہ متعدی جرائم ہیں اگر وقت پر نہ روکا گیا تو کل دوسرا بھی کرے گا اس لیے یہ زیادہ لائق سرزنش ہے۔
مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح کا کوئی جرم نہیں ہوا ہے لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک ایسا واقعہ ہوا تھا اور مجرم کو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے سے زندہ جلا دیا تھا۔
بعض علماء کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ اگر کوئی عالم اس موقع پر ملزم کی طرفداری کررہا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔
مدارس میں بچوں پر جسمانی تشدد سے متعلق مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کے واقعات بھی ہرجگہ ہوتے ہیں صرف مدارس میں نہیں لیکن اب مدارس میں بھی اس چیز کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔
مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ بعض مدارس میں مارپیٹ ہوتی ہے لیکن تمام مدارس میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں 20 سال سے پڑھا رہا ہوں لیکن میں نے لاتعداد طلباء میں سے کسی کو بھی آج تک تھپڑ نہیں مارا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube