Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

اسٹبلشمنٹ سے بات چیت ہوسکتی ہے،فضل الرحمان

SAMAA | - Posted: Jun 20, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 20, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فضل الرحمان کا کراچی میں بڑے جلسے کا اعلان

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں بڑے جلسے کا اعلان کردیا۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سوچی سمجھی سازش سے نوجوان نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹبلشمنٹ سے اپنی شرائط پر بات چیت ہوسکتی ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 4 جولائی کو سوات میں تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا، جب کہ 29 جولائی کو کراچی میں پی ڈی ایم کا بہت بڑا جلسہ کرنے جا رہے ہیں۔ ایک بار پھر عوامی صفوں کو منظم کیا جائے گا۔ نااہل لوگوں کو بٹھا کر پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی۔ یہ حکومت دھاندلی سے آئی ہے۔ نہ کوئی وقار ہے نہ احترام ہے۔ نہ ان لوگوں کو خواتین کی عزت کا لحاظ ہے۔ اس صورت حال میں پی ڈی ایم اپنے مؤقف پر قائم ہے اور عوامی قوت کیساتھ بہتری لانے کیلئے حکمت عملی جاری ہے۔ پارلیمنٹ ایسا ادارہ کہلاتا تھا بالادستی کا ادارہ تھا، لیکن بجٹ اجلاس میں اس کی توہین اور تضحیک کی گئی، ایک بھونڈے انداذ سے بجٹ پیش کیا گیا، اور جھوٹ کو چھپانے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن پر جوتے پھینکے گئے، اس قسم کے کردار اور گرے ہوئے رویے کے بعد کیسے پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بات کی جائے گی۔

فوج پر تنقید

ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ یہ لوگ مظلومیت کے دور سے گزر رہے ہیں۔ پرانا نظام ختم کردیا اور نیا نظام ناکام نظر آرہا ہے۔ دہشت گرد کیوں سر اٹھا رہے ہیں؟ ہمیں شبہہ ہے کہ اس قسم کے حالات ریاست اور ریاستی اداروں کی ناک کے نیچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے یہ حالات رونما ہوتے ہیں بلکہ میں یہ گستاخی بھی کروں گا کہ اس قسم کے حالات جان کر پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ ان علاقوں میں فوج کو رہنے کا جواز مل سکے۔ وہاں دوبارہ نئی نئی تنطیمیں اٹھ رہی ہیں تو ٹارگٹ کلنگ کر رہی ہیں اور علما کو بھی قتل کر رہی ہیں۔

کچھ ادارے اپنا ہاتھ اوپر رکھنے اور اپنے مفادات کیلئے یہ سب کر رہے ہیں تاکہ ان کے پاس جواز موجود رہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال تک کیلئے بڑی رقم کا اعلان کیا گیا تھا کہ وہاں ترقیاتی کام ہوسکیں۔ مگر آج تک انہیں ایک پیسہ نہ مل سکا۔

افغانستان

افغانستان سے متعلق جے یو ئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ہم ایک اسلامی اور مستحکم افغانستان چاہتے ہیں۔ ہمیں افغانستان سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ ہمارے دشمن اور کردار تو افغانستان میں موجود ہیں مگر پاکستان نہیں۔ ہم افغانستان میں مؤثر کردار چاہتے ہیں۔ بیسز سے متعلق انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پیغام بھیجا تھا کہ اگر آڈے دیئے تو پاکستان افغانستان بن جائے گا، عمران خان اڈے دینے والا تھا۔ اڈے نہیں دینے کا عمران خان نے فیصلہ عوامی دباؤ میں فیصلہ کیا ہے۔ ‫ڈرون اٹیک کا تعلق حکومت سے نہیں افغانستان کی بہتری سے ہے۔ ڈرون ہو یا نا ہوں، لیکن قبائلی اضلاع میں بندامنی اپنی جگہ موجود ہے۔

حکومت پر تنقید

انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت نئی نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ایک ماردر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔ اس حکومت کو یہودی ایجنٹ کے تحت لایا گیا۔ یہ ایک جنگ ہے اور ہم اس کے خلاف کھڑے ہیں۔ سال 2018 کے عام انتخابات میں خالصتا امریکی اور یہودی ایجنڈے پر عمل کیا گیا۔ آج نئے نظام کا تجربہ ناکام نظر آریا ہے۔ شہباز شریف کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات کیلئے اے پی سی کی تجویز دی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube