Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

بلوچستان اسمبلی:بجٹ سے قبل ہنگامہ آرائی،توڑ پھوڑ،ہاتھا پائی

SAMAA | - Posted: Jun 18, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 18, 2021 | Last Updated: 4 months ago

وزیراعلیٰ بلوچستان پر بھی حملہ

بلوچستان اسمبلی میں جمعہ 18 جون کو مالی سال 2021-2022 کے بجٹ سے قبل اپوزیشن نے احتجاجاً صوبائی اسمبلی کو تالے لگا دیئے، جب کہ پولیس کی بکتر بند گاڑی نے ٹکر مار کر اسمبلی کا دروازہ توڑ ڈالا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی کے دوران اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے آج 4 بجے اجلاس میں بجٹ پیش کیا جانا تھا لیکن اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ بجٹ تاخیر کا شکار ہوا۔

کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے احتجاج کے باعث پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ بھی کی۔ پولیس اور انتظامیہ نے ایم پی اے ہاسٹل والے گیٹ کو زبردستی کھلوانے کی کوشش کی۔

گیٹ توڑنے کے دوران ملبے کی زد میں آکر اراکین اسمبلی بابو رحیم اور عبدالواحد صدیقی زخمی ہوگئے۔ اس موقع پر پولیس اور اراکین اسمبلی کے درمیان اسمبلی احاطے میں ہاتھا پائی ہوئی۔ مظاہرین نے گملے اٹھا کر پولیس اہل کاروں کو دے مارے۔ ہاتھا پائی کے دوران رکن اسمبلی احمد نواز بلوچ گرگئے۔

جام کمال

ہنگاموں کے دوران ہی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اسمبلی پہنچے۔ جام کمال کو وزراء کے گھیرے میں اسمبلی کے اندر لے جایا گیا۔ اس دوران اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے ان پر حملے کی کوشش بھی کی گئی۔ جام کمال کے پہنچتے ہی ہنگامہ آرائی میں شدت آگئی ،جام کمال کے پہنچنے پر ہنگامہ آرائی میں کئی دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ترجمان حکومت

دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے آج بلوچستان اسمبلی کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ لیاقت شاہوانی نے کہا کہ اپوزیشن سے ہضم نہیں ہورہا کہ ہم ایک بڑا بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا اپوزیشن کے احتجاج پر کہنا تھا کہ بجٹ میں کسی بھی حلقے کو نظر انداز نہیں کیا گیا، اپوزیشن کے حلقوں میں سریاب روڈ کی توسیع سمیت متعد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ سریاب روڈ کسی بھی حکومتی رکن کا حلقہ نہیں لیکن اس کے باوجود اربوں روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے اور سریاب روڈ کی توسیع ہو گی۔

اپوزیشن کا احتجاج کیوں؟

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے بجٹ میں ان کے حلقوں کیلئے فنڈز مختص نہ کرنے کے خلاف صوبے بھر میں آج بروز جمعہ 18 جون کو احتجاج چوتھے روز دن میں داخل ہوگیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں کا احتجاجی کیمپ گزشتہ 4 روز سے قائم ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے حلقوں کو فنڈز دیئے جائیں۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں کا بیان

قبل ازیں صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو صوبائی بجٹ میں شامل نہ کیا گیا تو اسمبلی کی عمارت کا محاصرہ کرلیں گے اور کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر اور ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں، سول سوسائٹی کے اراکین، تاجروں اور دیگر لوگوں کو وزرا اور ایم پی اے کے داخلے کو روکنے کے لیے بلوچستان اسمبلی کے باہر جمع ہونے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم حکومت کو بجٹ پیش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو مرکزی اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا ہے۔ عبدالواسع نے مزید کہا تھا کہ ڈیولپمنٹ سے متعلق منصوبوں میں ان کی مجوزہ ترقیاتی اسکیموں کو نظرانداز کردیا گیا اور اتحادی حکومت سے اتفاق رائے سے بجٹ بنانے کے لیے کم سے کم 5 دن کے لیے بجٹ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پس منظر

واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کی متحدہ اپوزیشن میں جمعیت علمائے اسلام، بی این پی (مینگل)، پشتونخواہ میپ اور آزاد اراکین شامل ہیں اور بجٹ میں اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ ان کے حلقوں کو نظر انداز کرنے کے خلاف ان کا احتجاجی دھرنا 4 روز سے جاری ہے۔

اپوزیشن اراکین نے گزشتہ روز احتجاج کے سلسلے میں صوبے کی تمام قومی شاہراہیں بھی بلاک کر دی تھیں۔

 بلوچستان میں اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ ترقیاتی منصوبے صوبائی بجٹ کا حصہ نہ بنانے پر اسے حکومتی نااہلی قرار دیتے ہوئے کوئٹہ، چاغی، واشک، خاران اور نوشکی سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں اور قصبوں سے گزرنے والی قومی شاہراہوں کو بلاک کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube