Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

لاہور:طالبعلم سے بدفعلی پرمدرسے کے استاد کیخلاف مقدمہ درج

SAMAA | - Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 3 months ago

لاہور میں مدرسہ جامعیہ منظور الاسلامیہ کے برطرف عہدیدار مفتی عزیز الرحمان کے خلاف مدرسے کے بچے کیساتھ بدفعلی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی تھی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص جس کی لمبی سفید داڑھی ہے اور وہ ہلکے رنگ کے شلوار قمیض اور واسکٹ میں ملبوس ہے اور اس شخص نے سر پر ٹوپی بھی پہنی ہوئی ہے۔ وہ کمرے کے فرش پر نیم درآز ہے۔ اسی دوران گہرے کپڑوں میں ملبوس ایک لڑکا کمرے میں داخل ہوتا ہے اور اس عمر رسیدہ شخص کے اوپر بیٹھ جاتا ہے۔

بعد ازاں ویڈیو میں موجود عمر رسیدہ شخص کی شناخت جامعیہ منظور الاسلامیہ کے مفتی عزیز الرحمان کے نام سے کی گئی، جو کہ جمعیت علمائے اسلام ف لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔

ویڈیو میں دو افراد کے سین کے بعد ایک لڑکے کو کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے بیان دیتے دیکھا جا سکتا ہے جو کہہ رہا ہے کہ جب سے یہ ویڈیو گردش ہونا شروع ہوئی ہے، اسے مفتی عزیز اور ان کے بیٹے الطاف الرحمان کی جانب سے مسلسل سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

مذکورہ ویڈیو بیان میں لڑکے کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ان باتوں اور دھمکیوں کے باعث چھپنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ میں نے اس واقعہ پر سب سے بات کی مگر کسی نے میری بات نہیں سنی اور نہ مجھے انصاف ملا، اس لیئے میں نے سوچا ہے کہ میں اپنی جان لے لوں اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، سو اس سے اچھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بات کرتے ہوئے ویڈیو میں لڑکا زار و قطار رونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ویڈیو میں شروع میں نظر آنے والے واقعات کا تسلسل شروع ہوجاتا ہے، جس میں بدفعلی کے مناظر موجود ہیں۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مفتی عزیز الرحمان کی جانب سے دیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں اس معاملے میں گھسیٹا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ‘ہوش میں’ تھے تو لڑکا موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے کیسے ویڈیو بنا سکتا تھا۔ مفتی عزیز الرحمٰان نے یہ کہا کہ یہ ایک سازش ہے تاکہ انہیں مدرسے سے ہٹایا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہوش و حواس میں ، میں کبھی ایسا نہیں کرسکتا بلکہ اس لڑکے نے مجھے چائے میں نشہ آور چیز ڈال کر دی تھی، جس کے بعد میں اپنے ہوش کھو بیٹھا تھا۔ بیان میں مفتی کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری بات کی سچائی اس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس ویڈیو میں ، میرا جسم ہل نہیں رہا ہے۔ اگر میں ہوش میں ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ میں لڑکے کو اس کے موبائل سے ایسی حرکت کی ویڈیو بنانے دیتا۔

بیان جاری رکھتے ہوئے مفتی نے کہا کہ مذکورہ ویڈیو سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکے کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی۔ یہ ویڈیو ایک سازش کا حصہ ہے۔ 2 ڈھائی سال بعد اس ویڈیو کو وائرل کرنے اور سامنے لانے کا مقصد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ویڈیو میں، میں نے موزے اور سردیوں میں استعمال ہونے والی واسکٹ پہنی ہوئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو سردیوں میں بنائی گئی ہے۔

رکنیت معطلی سے متعلق مفتی عزیز الرحمان کا کہنا تھا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 3 جون 2021 کو ان کی معطلی کا نوٹس جاری کیا گیا۔ سما ڈیجیٹل کو حاصل ہونے والی اس نوٹس کی کاپی کے مطابق محلے کے کچھ افراد مفتی عزیز الرحمان کے گھر تشریف لائے اور زیادتی کی ویڈیو مفتی کے بیٹے الطاف الرحمان اور مدرسے انتظامیہ کو دکھائی جس کے بعد مفتی عزیز الرحمان کو برطرف کردیا گیا۔

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں وفاق المدارس کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مفتی عزیز الرحمان کو جاری لیٹر میں کہا گیا کہ شکایت اور انتظامیہ کے مابین مشاورت کے بعد آپ کو مدرسے کی تمام ذمہ داریوں سے برطرف کیا جاتا ہے۔

مفتی عزیز الرحمان کیخلاف درج کی تفصیلات

مفتی عزیز الرحمان کے خلاف مقدمہ تھانا نارتھ کینٹ میں درج کیا گیا ہے۔ مفتی عزیز الرحمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 377 (غیر فطری جرائم) اور دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکی دینے کی سزا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر ویڈیو میں نظر آنے والے لڑکے کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ 17 جون کو درج پہلی انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق متاثرہ طالب علم نے بتایا کہ اسے جامعہ منظور الاسلامیہ میں 2013 میں داخلہ ملا تھا۔ امتحانات کے دوران مفتی عزیز الرحمان نے ان پر اور ان کے دوست طالب علم پر امتحان کے دوران کسی اور کو امتحان دلانے کا الزام لگایا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق اس کے ساتھ ہی مذکورہ لڑکے پر وفاق مدارس میں 3 سال تک امتحانات دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ ایف آئی آر درج کروانے والے کے مطابق انہوں نے مفتی عزیز الرحمان سے معاف کردینے کی التجا کی۔ متاثرہ لڑکے نے یہ بھی بتایا کہ مفتی عزیز الرحمان نے کہا کہ اگر جنسی حرکتوں سے انہیں ‘خوش’ کردوں تو کچھ سوچا جا سکتا ہے۔

شکایت کنندہ نے مزید کہا کہ ان کے پاس جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے یہ بھی کہا کہ مفتی عزیز الرحمان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر پابندی ختم ہوجائے گی اور امتحانات میں بھی پاس ہو جاؤ گے۔ 3 سال گزر گئے اور اس عرصے میں مفتی عزیز الرحمان ہر جمعے کو بدفعلی کرتے، مگر اپنے وعدے کے مطابق انہوں نے نہ مجھ پر سے پابندی ختم کرائی اور نہ امتحانات میں پاس ہوا بلکہ مزید بلیک میل کرنا شروع کردیا۔

متاثرہ طالب علم نے ایف آئی آر میں یہ بھی کہا کہ اس نے مدرسے کی انتظامیہ کو شکایت کی تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا کہ مفتی عزیز الرحمان ‘بزرگ اور نیک سیرت شخص’ ہیں بلکہ انتظامیہ نے الٹا مجھے ہی جھوٹا قرار دے دیا۔ اس کے بعد مفتی عزیز الرحمان کی بدفعلی کی ریکارڈنگ پیش کی اور وفاق المدارس العربیہ کے ناظم کو دکھائی جس کے بعد مفتی عزیز الرحمان نے مجھے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ ویڈیو اور آڈیو کی بنیاد پر مدرسے کی انتظامیہ نے مفتی عزیز الرحمان کو فارغ کردیا جس کے بعد انہیں غصہ آگیا اور وہ مجھے مسلسل سنگین دھمکیاں دے رہے ہیں۔

دفعات کیا ہیں؟

متاثرہ لڑکے کے مطابق خوف کے باعث اس نے سیکشن 337 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506کے تحت ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 337 غیر فطری جرائم سے متعلق ہے جس میں 2 سے 10 سال کی سزا ہوتی ہے، جب کہ سیکشن 506 کسی کو دھمکی دینے کے زمرے میں آتی ہے۔

لاہور پولیس کے ترجمان نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ مفتی عزیز الرحمان کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا، تاہم ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube