’روس اور امریکا شیطان، نہ ختم ہونے والی لڑائیاں چھوڑگئے‘

SAMAA | - Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 1 month ago

ذاکر اللہ کو یاد نہیں کہ امن کیسا ہوتا ہے کیوںکہ جب وہ 11 سال کے تھے تو انہیں پاکستان آنا پڑا، کیونکہ افغانستان میں روسی افواج نے چڑھائی کر رکھی تھی اور ان کے صوبے بدخشاں میں پرندوں کی چہچہاہٹ سے زیاد فائرنگ اور بموں کی آواز آتی تھی۔

انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ’’میں پاکستان آگیا تو پتہ چلا کہ پیچھے روسی بمباری میں میرا بھائی زخمی ہوا اور کچھ دنوں بعد اس کا انتقال ہوگیا‘‘۔

ذاکر اللہ پیشے کے اعتبار سے معلم ہیں اور کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب ایک اسکول میں پڑھاتے ہیں، جہاں ان کے مطابق 350 بچے زیرتعلیم ہیں۔

ذاکر اللہ پاکستان میں موجود تقریباً 23 لاکھ افغان پناہ گزینوں میں سے ایک ہیں جو افغانستان پر 1979ء پر ہونیوالے روسی حملے کے سبب پاکستان آئے۔ روس تو چلا گیا لیکن ذاکراللہ کو واپس جانا نصیب نہ ہوا کیونکہ روس کے جاتے ہی افغان مجاہدین کے آپس کے اختلافات جنگ کی صورت اختیار کرگئے اور بیرونی طاقت کے چلے جانے کے باوجود بھی قتل و غارت گری بند نہ ہوسکی۔

پھر طالبان نے افغانستان میں اپنی حکومت بنالی اور چند ہی سالوں بعد اسامہ بن لادن کی القاعدہ نے 2001ء میں امریکی سرزمین پر حملہ کرکے ایک اور سپر پاور امریکا کی توجہ افغانستان کی طرف مبذول کروالی۔

ذاکر اللہ کہتے ہیں کہ ’’روس اور امریکا دونوں شیطان ہیں جو اپنے پیچھے نہ ختم ہونے والی لڑائیاں چھوڑ جاتے ہیں‘‘۔

اب 20 سال بعد 2020ء میں قطر میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت غیرملکی افواج افغانستان سے واپس جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان میں رہنے والے افغان پناہ گزینوں کو افغانستان میں امن کی واپسی مشکل نظر آتی ہے۔

کراچی کے علاقے الآصف اسکوائر کے 3 کمروں کے فلیٹ میں بیٹھے 30 سالہ شہاب الدین جو کہ گھی اور تیل کے بیوپاری ہیں، سماء ڈیجیٹل کو بتاتے ہیں کہ وہ لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوگئے لیکن امن آخر ہوتا کیا ہے؟، انہوں نے صرف بزرگوں کے قصوں میں ہی سنا ہے۔

’’ہمارے باپ دادا بتاتے ہیں کہ ان جنگوں سے پہلے حالات اچھے تھے اور دنیا بھر سے لوگ وہاں سیاحت کیلئے آیا کرتے تھے، افغانستان کا ایک اچھا امیج تھا دنیا میں۔‘‘

شہاب الدین کا کہنا ہے کہ سویت یونین کے بعد مجاہدین کی آپس میں لڑائیاں ہوئیں، پھر طالبان آگئے اور پھر امریکا آگیا۔ ان کے مطابق ان ساری لڑائیوں نے افغانستان کو دنیا بھر میں دہشتگرد ملک کے طور پر پیش کیا۔

ان کو ڈر ہے کہ امریکا کہ جاتے ہی پھر سے طالبان کی دیگر گروہوں سے لڑائیاں شروع ہوجائیں گی اور امن کا خواب بس ایک خواب ہی رہ جائے گا۔

شہاب الدین کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان دونوں کو بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اس لڑائی کا حل نکالنا چاہئے۔ ’’ان کو چاہئے کہ بیٹھ کر مذاکرات کریں، اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں کیونکہ نہ افغان حکومت طالبان کو ختم کرسکتی ہے اور نہ طالبان افغان حکومت کو ختم کرسکتے ہیں‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان میں امن واپس آتا ہے تو تقریباً 80 فیصد پناہ گزین اپنے ملک واپس لوٹ جائیں گے۔

افغان طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم ان مذاکرات کی نوعیت کے حوالے سے انہوں نے کچھ نہیں کہا۔

پچھلے ہفتے انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں فریقین کی مذاکراتی ٹیمیں جون کے آغاز پر دوحہ میں ملی ہیں اور اس اجلاس میں امن عمل پر بھی بات ہوئی ہے۔

تاہم سینیئر افغان صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کا ماننا ہے کہ ان مذاکرات میں سنجیدگی کا پہلو نظر نہیں آتا۔

انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے‘‘۔

جیسے جیسے غیر افغان افواج کے انخلاء کا وقت قریب آرہا ہے، ویسے ہی افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کی جھڑپوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی طرح خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے کارکن اس خوف کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ اگر طالبان واپس آتے ہیں تو شاید خواتین کو گھر سے باہر کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بینظیر پاکستان کے شہر کراچی میں اپنے خاوند اور بچوں کیساتھ مقیم ہیں۔ ان کا باقی خاندان افغان صوبے بغلان میں رہتا ہے۔ تصویر : روحان احمد

کراچی میں مقیم بینظیر پاکستان میں موجود ان افغان خواتین میں سے ایک ہیں جنہیں اپنے ملک واپس جانے کی خواہش تو ہے لیکن وہ چاہتی ہیں کہ وہاں تمام خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئے۔

بینظیر کراچی میں ہی پیدا ہوئیں اور شادی کے بعد اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ یہیں مقیم ہیں، لیکن ان کے والد، والدہ اور بھائی افغان صوبے بغلان میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’میں وہاں جانا چاہتی ہوں لیکن جنگ کا خوف ہے‘‘۔

بینظیر نے مزید کہا کہ ’’افغانستان میں خواتین کو کام کرنے کی اجازت ہو، انہیں حقوق ملیں، انہیں باہر کام کرنے دیا جائے، وہ پڑھائی کرسکے، ان پر ظلم و تشدد نہ ہو کہ وہ کوئی کام نہ کریں اور اپنے گھر میں رہیں‘‘۔

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر افغان طالبان کسی صورت میں کابل پر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو کیا وہ خواتین کے خدشات کو دور کرتے ہوئے ان کے حقوق ان کو دینے پر راضی ہوجائیں گے؟۔

افغان صحافی سمیع یوسفزئی سمجھتے ہیں کہ امریکا کے خلاف 20 سالہ لڑائی کے بعد بھی طالبان کے رویے میں کوئی لچک نہیں نظر آتی اور نہ بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ انسانی حقوق پر کام کرنے کے حوالے سے ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

اپنی بات کو ختم کرنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ بہت سے افغان اضلاع طالبان کے قبضے میں آچکے ہیں ’’لیکن کابل ابھی بھی بہت دور ہے‘‘، لیکن اگر کچھ بڑے شہر طالبان کے قبضے میں آجاتے ہیں تو طالبان مخالف گروہ بھی لشکر تیار کرکے ہتھیار اٹھالیں گے اور افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube