Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

خطرناک پہاڑی علاقوں میں حادثات سےبچنے کی آسان تدابیر

SAMAA | - Posted: Jun 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سیاحت پر پابندی ہٹنے کے بعد خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا تانتا بندھ گیا ہے لیکن پہاڑی علاقوں کے نشیب و فراز سے ناواقف سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
سیاح ناکافی معلومات راستوں سے ناواقفیت اور احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے کے باعث مختلف نوعیت کی پریشانیوں کا شکار ہورہے ہیں اور صرف ایک ہفتے میں بابو سرٹاپ اور ناران کے اطراف تقریباً 15 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ناران میں پھسنے ہوئے 3 سیاحوں کو ریسکیو اہلکاروں نے 8 گھنٹے کی طویل کوششوں کے بعد گلیشئر سے اسٹیشن بحفاظت پہنچا دیا تھا۔ یہ سیاح انتہائی اونچائی پر جانے کے بعد راستہ بھٹک گئے تھے اور اس دوران ان میں سے ایک شخص زخمی بھی ہوگیا تھا۔ بعد ازاں وہ تینوں ایک گلیشیئر میں پھنس گئے جہاں سے نکالے جانے میں انہیں 8 گھنٹے لگے۔
ریسکیو 1122 ناران اسٹیشن کے ترجمان عامرخان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ گزشتہ جعمرات بھی 3 سیاحوں کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا، وہ تینوں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوکر جان سے چلے گئے تھے۔
ترجمان ریسکیو کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران صرف ناران میں 10 کے قریب واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سیاح یا تو گلیشیئر میں پھنس گئے یا پہاڑ سے پھسل کر گرے یا پھر تیز رفتاری کے باعث سڑک پر کسی حادثے کا شکار ہوئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اکثر سیاح ٹریفک قوانین اور علاقائی پولیس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے جس کے باعث خطرناک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عامرخان کا کہنا تھا کہ ایک اور غلطی جو سیاح کرتے ہیں وہ یہ کہ لوگ دریا کے بہت قریب جاتے ہیں اور وہاں پھسلن ہونے کے باعث تیز اور گہرے دریا میں گر جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دریائے کنہار کا بہاؤ اور گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ وہاں ریسکیو آپریشن بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہوپاتا انہوں نے ایسے ہی ایک حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دریا میں ڈوبنے والی سانگھڑ کی ایک خاتون کی لاش پانی سے ڈیڑھ مہینے بعد ملی تھی۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کو دریا کے قریب جانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور خصوصاً فوٹو گرافی کرتے وقت بچوں پر خاص نظر رکھنی چاہیے.
عامر خان نے کہا کہ سیاحوں کو جھیلوں اور اونچائی پر جانے کے لیے تجربہ کار مستند گائیڈ کی خدمات لینی چاہئیں اور اس کے لیے مقامی ہوٹل انتظامیہ کی ضمانت بھی لی جانی چاہیے کیوں کہ اکثر گائیڈ سیاحوں کو اونچائی پر لے جاکر چھوڑ دیتےہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح کا واقعہ حال ہی میں راولپنڈی سے گھومنے پھرنے آنے والے ایک خاندان کے ساتھ پیش آیا تھا۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں ٹورسٹ گائیڈ کی باقاعدہ رجسٹریشن اور تربیت کے لیے بھی ضلعی انتظامیہ کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ادارہ سیاحوں کی خدمت کے لیے 24 گھنٹے دستیاب ہوتا ہے تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث اکثر اوقات آپریشن میں طویل وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات سے بچنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاح احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

دوران سیاحت پریشانی سے بچنے کےلیے احتیاطی تدابیر

سیاحوں کے لیے مطلوبہ مقام پر جانے سے پہلے اس جگہ سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کرلینا انتہائی ضروری ہے۔ ان معلومات کے حصول کے لیے سیاح خیبرپختونخوا حکومت کی موبائل ایپ یا 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن 1422 سے رابطہ کرسکتے ہیں جہاں انہیں مستند معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
گھومنے جانے سے پہلے رہائش کا انتظام یقینی بنا لینا بھی سیاحوں کے لیے ایک ضروری اور مفید عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے بھی سرکاری موبائل ایپ یا محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔
محکمہ سیاحت خیبرپختو ںخوا نے سیاحوں کے سہولت کے لیے صوبے میں 10 سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز نصب کیے ہیں۔ ان سیاحتی مقامات میں ٹھنڈیانی، شڑاں، بیشیگرام، گبین جبہ، یخ تنگی، شیخ بدین، مہابن، شہیدہ سر، الئی اور بمبوریت شامل ہیں۔
سیاحوں کا رات کے وقت سفر کرنے سے گریز بہتر ہے اور پہاڑی راستوں پر خود گاڑی چلانے کے بجائے مقامی ڈرائیوروں پر انحصار زیادہ محفوظ عمل ہے۔ اکثر سیاحتی مقامات پر پٹرول پمپ دستیاب نہیں ہوتے لہٰذا گاڑی میں ایندھن کا معقول ذخیرہ رکھنا چاہیے۔
اپنے بچوں اور خواتین کو دریا، ندی نالوں اور جھیلوں کے قریب جانے یا پانی میں اترنے سےمنع کریں۔ ان علاقوں میں پانی ٹھنڈا، توقع سے زیادہ گہرا اور بہاؤ کافی تیز ہوتا ہے۔
چونکہ ہر علاقے میں لوگوں کا طرز زندگی اور رسم و رواج مختلف ہوتے ہیں اس لیے مقامی خواتین کی تصاویر کھینچنے اور بغیر اجازت بچوں کی بھی تصاویر کھینچنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ دیہی علاقوں میں اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔
کرونا وبا کے پھیلاؤ روکنے کے لیے بھی صوبائی حکومت نے ایس او پیز جاری کی ہیں جس کے مطابق سیاح سفر سے پہلے اطمینان کر لیں کہ وہ صحت مند اور سفر کے لیے جسمانی طور پر فٹ ہیں۔
حکومت نے تمام سیاحوں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ سیاحی مقامت کا رخ کرتے وقت وہ اپنے قومی شناخت ساتھ رکھنے کے علاوہ کرونا ویکسینیشن سرٹفیکیٹ یا کرونا منفی سرٹیفکیٹ بھی اپنے پاس رکھیں۔ واضح رہے کہ کرونا ویکسین لگائے بغیر 50سال سے زائد عمر کے افراد کو ہوٹل میں بکنگ کی اجازت نہیں ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube