Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

ڈیفنس،کلفٹن اس سال بارشوں میں نہیں ڈوبیں گے،سی بی سی

SAMAA | - Posted: Jun 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ سی بی سی نے مون سون بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کو گزشتہ سال جیسی بدترین صورتحال سے بچانے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن انتظامیہ آئندہ مون سون موسم میں بارشوں سے متعلقہ مسائل سے نمٹنے کیلئے بھاری مشینری بشمول اینٹی کلوگنگ پمپ، سب مرسیبل پمپ، انجنوں سے چلنے والے پمپ، پیٹرول ڈیزل انجن ٹرالی ماؤنٹڈ پمپ، ڈی واٹرنگ پمپ اور ونچنگ مشینیں حاصل کرلی ہیں۔

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کی جانب سے خریدی گئی یہ تمام نئی مشینری ڈی ایچ اے فیز 4 میں گزری قبرستان کے قریب سی بی سی ٹیکنیکل ورکشاپ پہنچادی گئی ہے۔

سی بی سی کے ڈپٹی چیف آفیسر ڈاکٹر رضوان نے میڈیا بریفنگ کے دوران مشینری ملنے پر انتہائی پراعتماد نظر آئے اور کہا کہ سی بی سی کے علاقوں میں برساتی پانی کی نکاسی ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں، آئندہ بارشوں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں۔

ڈاکٹر رضوان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال خطے میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث غیرمتوقع بارشیں آفت کی طرح تھی، سمندر میں مون سون کے دوران اونچی لہروں کے باعث قریبی علاقے ڈوب گئے۔

بارش سے متعلقہ مسائل سے نمٹنے کیلئے مشینری کی خریداری پر 10 کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔

سی بی سی کے ٹیکنیکل ورکشاپ انچارج عمران خان کا کہنا ہے کہ ٹیمیں ڈی ایچ اے فیز 4، خیابان سحر، فیس 6 اور بخاری کمرشل کے علاقوں میں نشاندہی کئے گئے چوکنگ پوائنٹس کی صفائی کیلئے کام کررہی ہیں۔

گزشتہ سال ان علاقوں میں سیوریج سسٹم بھر جانے کے باعث بارش کا پانی جمع ہوگیا تھا۔ عمران خان نے مزید بتایا کہ سی بی سی انتظامیہ نے ڈی ایچ اے میں بارش کے پانی کو داخل ہونے سے روکنے کیلئے دو مقامات پر 8 ریگولیٹر گیٹ نصب کئے ہیں، ان میں 5 ریگولیٹر گیٹ سی ویو پر میک ڈونلڈ سے چنکی منکی (فن لینڈ) کی لائن میں نصب کئے گئے ہیں جبکہ تین گیٹ محمود آباد کے قریب کے پی ٹی پل سے ڈی ایچ اے کی جانب لگائے گئے ہیں۔

یہ گیٹ کس طرح کام کرتے ہیں؟

سی بی سی افسر عمران خان نے مزید بتایا کہ انتظامیہ ان دروازوں کو برساتی پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے رکاوٹ کے طور پر استعمال کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر سمندر میں اونچی لہریں اٹھتی ہیں تو انتظامیہ پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے ان دروازوں کو بند کرسکتی ہے اور اگر سمندر میں لہریں نیچی ہوئیں تو ہم برساتی پانی کو سمندر میں جانے کیلئے ہم یہ دروازے کھول دیں گے۔

سی بی سی انتظامیہ نے یہ قدم گزشتہ سال مون سون بارشوں کے باعث پڑنے والے تباہ کن اثرات کے باعث اٹھایا۔

ڈی ایچ اے میں برساتی پانی کے نالوں کا نظام مناسب ہے؟

گزشتہ سال ماہرین نے سڑکوں کے بیچ میں برساتی پانی کے نالے بنانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ان کا خیال ہے کہ برساتی پانی یا طوفانی پانی کے نالے سڑک کے کناروں پر اور تھوڑے گہرے ہونے چاہئیں، تاکہ بارش کا پانی ان میں کشش ثقل کے ساتھ بہے۔

ڈپٹی سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن ڈاکٹر رضوان کا کہنا ہے کہ برساتی پانی کے نالے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنائے گئے ہیں، ان کی تعمیر میں کچھ غلط نہیں۔

سی بی سی کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی ایچ اے کے برساتی پانی کے نالوں کی ٹھیک طرح سے صفائی نہیں ہوئی اور وہ کئی مقامات پر بھرے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ سال ریکارڈ بارشوں میں پورا ڈی ایچ اے ڈوب گیا تھا۔

ڈی ایچ اے میں برساتی پانی کے 40 چھوٹے بڑے نالے ہیں، گزشتہ سال اگست میں سی بی سی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ تمام نالے مون سون بارشوں سے قبل صاف کردیئے گئے تھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube