Tuesday, June 22, 2021  | 11 ZUL-QAADAH, 1442

غیرملکی قیدیوں کوملٹری کورٹس کی سزاکیخلاف اپیل کرنیکابل منظور

SAMAA | - Posted: Jun 10, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jun 10, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
KULBHUSHUN-YADAV-1

فائل فوٹو

قومی اسمبلی میں ملٹری کورٹس سےسزا پانے والے غیر ملکی قیدیوں کو سزا چیلنج کرنے کا بل منظور کرلیا گیا ہے۔ اس قانون سے پاکستان میں فوجی عدالت سے سزا پانے والے بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کو بھی  ہائی کورٹ میں اپیل کا حق مل جائے گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو مؤثر بنانے کیلئے حق نظرثانی کا بل آرڈیننس 2020 منظور کیا گیا۔ بل کو جمعرات 10 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے پیش کیا۔ وفاقی وزیر قانون کے پیش کردہ بل کو قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔

بل کے تحت پاکستانی ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے غیر ملکی قیدی بھی سزا کے خلاف اپیل ک اہل ہونگے۔ بل منظوری کے بعد بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادو بھی سزا کو چیلنج کرسکے گا۔

فروغ نسیم نے بل کے حوالے سے ایوان میں کہا کہ یہ وہ قانون ہے جو اپوزیشن کو مل کر پاس کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے آج بھارتی مقاصد پورے کرنے کی کوشش کی۔

وزیر قانون کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے واضح طور پر اپیل کا قانون لانے کو کہا ہے۔ اگر ہم یہ قانون نہیں لائیں گے تو بھارت سلامتی کونسل میں چلا جاتا۔ یہ بل پاس نہ ہوتا تو بھارت یو این جاتا اور عالمی عدالت انصاف میں توہین کا مقدمہ درج کراتا، پاکستان کے مفاد میں اپوزیشن کو مل کر اس قانون کو منظور کرانا چاہیے تھا۔

اس موقع پر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے شور بھی کیا گیا۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بل پڑھنے کا حق نہیں، بل پر بحث کا حق نہیں، اپنے ووٹ کے شمار ہونے اور اختلاف کو ریکارڈ پر لانے کا حق نہیں، قانون سازی میں پارلیمان کا کردار مکمل طور پر مجروح کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے ، الیکشن ایکٹ میں ترامیم اور کلبھوشن کو این آر او دینے کے بلوں کو زبردستی منظور کرایا گیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ بھارتی جاسوس کیلئے قانون سازی کو ہماری نسلیں معاف نہیں کریں گی، کل تک کلبھوشن کا نام نہ لینا ایشو بنا لیا گیا تھا، ایجنڈے میں ایسے ایشو شامل کئے گئے جو بڑا مسئلہ بن جائیں گے، ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے، حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔

جس پر وزیر قانون نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ احسن اقبال آپ جو بات کر رہے ہیں وہ بھارت چاہتا ہے، میں سمجھتا ہوں آپ نے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ نہیں پڑھا، اور اگر پڑھ رکھا ہے تو مجھے بہت حیرت ہے کہ آپ یہ بات کر رہے ہیں، اگر ہم یہ قانون نہیں لے کر آئیںگے تو عالمی عدالت انصاف میں ہمارے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے، میں آپکے سامنے یہ سارا فیصلہ پڑھ دیتے ہیں جس کا پیرا 146 یہ ہے کہ کلبھوشن کو پھانسی دینے کے فیصلے کو ریویو کرنا پڑے گا، یہی وہ قانون ہے جو فیصلے پر نظرثانی کو یقینی بنائے گا۔

اس دوران اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شدید نعرے بازی کی گئی، مودی اور کلبھوشن کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے، کلبھوشن کو پھانسی دو کے نعرے لگائے گئے۔ اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا اور شدید احتجاج کیا۔ اسپیکر نے اپوزیشن کو فلور دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب متعلقہ بل کی باری آئے گی تب ہی بولنے دوں گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube