Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

کینیڈاواقعہ انفرادی فعل نہیں،اسلاموفوبیا کابڑھتا رحجان ہے،وزیرخارجہ

SAMAA | - Posted: Jun 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago

یہ بڑھتا رجحان تشویش ناک ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی خاندان کے ساتھ پیش آنے والا دلخراش واقعہ انفرادی فعل نہیں بلکہ اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا تشویشناک رحجان ہے جس سے معاشرہ تقسیم ہوگیا ہے۔

منگل 8 جون کو قومی اسمبلی میں کینیڈا واقعہ پر پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انٹاریو میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں پاکستانی کینیڈین شہری فیملی کے 5 افراد متاثر ہوئے، 4 شہید ہوگئے اور ایک 9 سالہ بچہ زندگی اور موت کی کشمکش میں اسپتال میں داخل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دل دہلا دینے والا اور دردناک واقعہ ہے، ٹورنٹو میں ہائی کمشنر سے بات ہوئی اور تفصیلات سن کر آنکھ نم ہو جاتی ہے، اٹاپسی رپورٹ ابھی آنی ہے لہٰذا رپورٹ آنے سے پہلے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ وزیراعظم نے مجھے کہا ہے کہ اس معاملے پر عالم اسلام کو یکجا کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح ہماری آواز میں اثر ہوگا، پوری امہ کو یکجا ہوکر اس مسئلے کو دیکھنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی معاشرہ تقسیم کی طرف جارہا ہے، یورپ میں ساڑھے 6 کروڑ مسلمان رہائش پذیر ہیں، کینیڈا میں 20 لاکھ اور امریکا میں 60 لاکھ سے زائد مسلمان مقیم ہیں، مغربی دنیا میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے معاشرہ تقسیم ہوگا اور حادثات جنم لے سکتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ انفرادی عمل نہیں تھا بلکہ یہ ایک بڑھتا ہوا تشویشناک رحجان ہے، نیوزی لینڈ کی مسجد میں شہادتیں ہوئیں، برطانیہ میں نہتے لوگوں پر چھریوں سے حملے کیے گئے، ان کا کوئی قصور اور گناہ نہیں تھا، فرانس میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے جبکہ نیدرلینڈ میں توہین آمیز خاکوں سے پوری امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک نفرت پر مبنی جرم ہے، اس واقعے میں بنیادی عنصر نفرت نظر آرہا ہے اور ان کا گناہ یہ تھا کہ وہ کلمہ پڑھنے والے مسلمان تھے۔ متاثرہ خاندان کے سربراہ ایک فزیو تھراپسٹ تھے جو 10 سالوں سے وہاں امن کے ساتھ رہ رہے تھے، اس خاندان کا بنیادی طور پر تعلق لاہور سے تھا اور ان کے ایک بھائی آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ عالمی انسانی حقوق پر زور دیا ہے کہ انہیں اس پر بات کرنی چاہیے جب کہ عالمی میڈیا کو بھی اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور اس رجحان کے تدارک کے لیے انسانی بنیادوں پر آگے بڑھنا ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube