Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن پر قاتلانہ حملہ

SAMAA | - Posted: Jun 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فائل فوٹوْ جگنو محسن

اوکاڑہ کے علاقے جھجھ کلاں میں نامعلوم افراد نے جگنو محسن کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ حملے میں جگنو محسن محفوظ رہیں۔

پولیس کے مطابق معروف صحافی، اینکر پرسن اور رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن کی گاڑی پر فائرنگ اتوار 6 جون شام ساڑھے 5 بجے آبائی علاقے اختر آباد ضلع اوکاڑہ کے علاقے جھجھ کلاں میں کی گئی، جب وہ اپنی گاڑی میں اپنے حلقے میں ریلی کیلئے جا رہی تھیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی جانب سے جگنو محسن کے قافلے میں شامل دیگر گاڑيوں پر پھتراؤ اور ڈنڈوں سے بھی حملہ کيا گیا۔ حملے میں ایک گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔ واقعہ کی فوری اطلاع پولیس کو موصول ہوئی، جس نے وقوعہ سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، جب کہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

مقدمے کی ایف آئی آر تھانہ حجرہ شاہ مقیم میں حافظ حسین کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ مقدمہ محمد یاسین نامی شخص کے خلاف درج کیا گیا ہے، جس نے کچھ روز قبل جگنو محسن کو سوشل میڈیا پر بھی دھمکیاں دی تھیں۔ مذکورہ افراد کی جانب سے جگنو محسن پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ جھجھ کلاں میں جلسہ نہ کریں اور اگر انہوں نے جلسہ کیا تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اوکاڑہ ( ڈی پی او) فیصل شہزاد کا کہنا تھا کہ جگنو محسن جھجھ کلاں میں ریلی کیلئے آئی تھیں، جب مخالفین کی جانب سے ان کی گاڑی پر حملہ اور ڈنڈوں سے وار کیا گیا۔ واقعہ گزشتہ روز اتوار کو پیش آیا۔ حملہ کرنے والوں نے گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا۔

ڈی پی او کا مزید کہنا تھا کہ حملے میں ملوث 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ مرکزی ملزم کی تلاش جاری ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایم پی اے سیدہ جگنو محسن کرمانی سابق چیئرمین پی سی بی اور فرائیڈے ٹائمز کے سابق ایڈیٹر نجم سیٹھی کی اہلیہ ہیں۔ جگنو محسن آزاد حیثیت میں پی پی 184حجرہ شاہ مقیم سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئیں ہیں۔ جگنو محسن نے الیکشن میں 62ہزار 506ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ دوسرے نمبر پر بھی آزاد امیدوار سید رضا علی گیلانی رہے جنہوں نے 41ہزار 68ووٹ لیے۔

چند روز قبل ان کے صحافیوں کی سیکیورٹی سے متعلق بیانات بھی سامنے آئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق جگنو محسن کے مذکورہ دورے سے قبل انہیں سوشل میڈیا پر مخالفین کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں تھیں جس پر ایف آئی اے میں علیحدہ سے کیس چل رہا ہے۔

اہل علاقہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کی سیاسی ہمدردیاں سیدہ جگنو محسن کرمانی کے سیاسی مخالف گروپ سے ہیں۔

وزارت انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کی جانب سے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے کیفر کرادر تک پہنچایا جائے۔ ایسے واقعات کسی صورت قبول نہیں۔

واقعہ پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو سامنا لایا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube