گھوٹکی:مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکراگئیں، 40افراد جاں بحق

SAMAA | - Posted: Jun 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: ریڈیو پاکستان

گھوٹکی کے ريتی ريلوے اسٹيشن کے قريب دو مسافر ٹرينيں آپس میں ٹکرا گئيں، جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق جبکہ 50زائد زخمی ہوگئے۔محکمہ ریلوے سکھر ڈویژن نے انفارمیشن ڈیسک کا ٹیلی فون نمبر جاری کردیا اور کہا ہے کہ مسافروں کے رشتہ دار 0719310087 پر رابطہ کریں۔

کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ايکسپريس کی 4 بوگياں ٹريک سے اتر گئیں تھی جبکہ ڈی ایس ریلوے سکھر کے مطابق ٹرین حادثے میں 14 بوگیاں متاثر ہوئیں جبکہ 3 مکمل طور پر تباہ ہوئیں،9 بوگیاں ملت ایکسپریس کی حادثے میں متاثر ہوکر پٹڑی سےاتریں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت زيادہ تر مسافر سورہے تھے جبکہ ڈيڑھ گھنٹے سے زيادہ گزرنے کے بعد بھی ریلوے کا عملہ جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکا تھا۔

حادثے میں زخمی مسافروں کو ريتی رولر ہيلتھ سينٹر، ڈہرکی ميرماتھيلو اور اوباڑہ کے اسپتال منتقل کرديا گيا۔ ریلوے حکام کے مطابق حادثہ ریتی اور ڈہرکی ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیا۔ امدادی کارروائیوں کیلئےہیوی مشینری طلب کرلی ہے۔

ڈپٹی کمشنر عثمان عبداللہ نے گھوٹکی کے قریب ٹرین حادثے میں 40 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے انکا کہنا ہے کہ زخمیوں میں 25 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق حادثے ميں ٹرین کی تینوں بوگياں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں جبکہ ملبے تلے دبی 6لاشوں کو نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گھوٹکی ٹرین حادثے میں ریلوے کے دو ملازمین کانسٹیبل دلبرحسین اور کانسٹیبل علی ناصر بھی جاں بحق ہوگئے۔ ترجمان ریلوے کے مطابق دونوں اہلکاروں کا تعلق ریلوے ملتان ڈویژن سے تھا، جاں بحق اہلکار علی ناصر کی اگلے ماہ شادی تھی۔

سماء سے بات کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کی ترجمان نازیہ جبین نے بتایا کہ ٹرین حادثہ صبح 4 بجے پیش آیا۔ مقامی انتظامیہ نے کافی حد تک امدادی کاموں کو مکمل کیا ہے اور مزید کاموں کے لیے ہیوی مشینری منگوالی ہے۔

ترجمان نےبتایا کہ امدادی کام ایک گھنٹے کےاندر شروع کردیا گیا ہے۔ ہیوی مشینری فوری طور پر نہ پہنچنے کی وجہ اس کو چلانے کے طریقہ کار میں وقت لگنا ہے۔

حادثے سے متعلق انھوں نے کچھ تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور بتایا کہ سینئر افسران اس کی تحقیقات کریں گے۔ نازیہ جبین نے بتایا کہ اس ٹریک پر پہلے بھی کام ہوا ہے۔

روہڑی ٹرین حادثہ: غفلت پر 5 ریلوے افسران معطل

حادثے کے مقام پر ريسکيو ٹيميں بہت تاخير سے پہنچيں جبکہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بوگيوں ميں پھنسے افراد کو نکالا۔

گھوٹکی کے قريب حادثے کے بعد دونوں ٹريک پر ٹرينوں کی آمد و وفت بند کردی گئی ہے جبکہ ديگر ٹرينوں کو مختلف اسٹيشنوں پر روک لیا گیا ہے، جس کے باعث مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

ایس پی گھوٹکی عمر طفیل کے مطابق 50 سے 60 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے، زخمیوں میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔

دوسری جانب ترجمان سندھ رینجرز کا کہنا ہے امدادی سرگرمیوں کےلیے رینجرز اہکاروں کا ایک دستہ جائے حادثہ پر پہنچ گیا ہے۔

گھوٹکی ٹرین حادثے کی معلومات

گھوٹکی ٹرین حادثے میں کی معلومات حاصل کرنے کےلیے ریلوے حکام نے نمبرز جاری کردیے۔

فیصل آباد سے 0419200488اور 03334805996، راولپنڈی سے 0519270834، روہڑی اور سکھر سے 0715813433، 0719310087 جبکہ کراچی سے 03003754200 ان نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا بیان

وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی ٹرین حادثہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کو جائے حادثہ پر پہنچے کی ہدایت کردی ہے جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو فوری امداد فراہم کرنے حکم دیا ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی فوری امداد کرنے اور ریلوے سیفٹی میں خرابیوں کی جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

حادثے میں زخمی ہونے والوں کےنام

گھوٹکی ٹریفک حادثے میں جن زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا ان میں نعمان ریاض (کراچی)، کائنات ریاض (کراچی)، کوثر (کراچی)، شاہنواز (نامعلوم)، افہان (کراچی)، عبدالغفور (کراچی)، حیدر عباس (کراچی)، نسیم بیگم (کراچی)، زیب النساء (کراچی)، مسکان (بہاولپور)، زہرہ (کراچی) سے شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کا بیان

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف حادثے کی جگہ پہنچ چکے ہيں، پاک فوج اور رینجرز کےجوان ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

چئیرمین این ڈی ایم اے کا گھوٹکی حادثے پرافسوس کا اظہار

چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا کہنا ہے کہ گھوٹکی ٹرین حادثہ افسوسناک واقعہ ہے، ہماری کوشش ہے تمام افراد کو ریسکیو کرکے بچانے کی کوشش کی جائے۔

چئیرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق زخمیوں کی تعداد 100 کے قریب ہے، ریلوے حکام کے ہمراہ کام کررہے ہیں جلد ٹریک کلئیر کردیا جائے گا۔

اس سے قبل پاکستان ریلویز نے 6 مارچ کو روہڑی کے مقام پر ہونیوالے ٹرین حادثے میں کوتاہی پر 5 افسران کو معطل کردیا تھا جبکہ حادثے میں خاتون جاں بحق اور 30 مسافر زخمی ہوئے تھے۔

سانحہ تیزگام، مزید تین لاشیں شناخت کے بعد ورثا کے سپرد

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے دور میں سانحہ تیزگام ٹرین حادثے میں 75 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ٹرین حادثے میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت لواحقین کے ڈی این اے میچ کروا کر حوالے کی گئی تھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube