Tuesday, August 3, 2021  | 23 Zilhaj, 1442

کراچی:بحریہ ٹاؤن میں مظاہرین نے کئی گاڑیاں، دکانیں جلا دیں

SAMAA | , and - Posted: Jun 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Jun 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago

دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی

کراچی کی سپر ہائی وے پر واقع بحریہ ٹاؤن میں مظاہرین نے حملہ کرتے ہوئے کئی دکانوں اور گاڑیاں کو آگ لگا دی۔

پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا ہے تاہم آگ لگنے کی وجہ سے کروڑوں کا سامان جل گيا ہے۔ مظاہرین نے صبح سے ہی دھرنا دے رکھا تھا جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس صبح سے ہی سوسائٹی میں تعینات تھی۔

مظاہرین گیٹ پر لگے کنٹینرز کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ اس دوران مظاہرین نے دکانوں، موٹر سائیکلوں، گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی جبکہ اے ٹی ایم مشینوں کو توڑ کر رقم بھی نکال لی گئی۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ مظاہرین کو حراست میں لے کر متعلقہ تھانے منتقل کیا گیا ہے۔

مظاہرین گزشتہ روز سے بحریہ ٹاؤن کے باہر موجود تھے۔ مظاہرین نے کہا تھا کہ اگر انکے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو سوسائٹی کے اندر داخل ہوجائیں گے۔

واقعے سے متعلق بحریہ ٹاون کے رہائشی نبیل نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ رہائشیوں کی حفاظت کے لیے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے کافی تعاون کیا ہے البتہ مرکزی دروازے کے قریب موجود لوگوں کی املاک کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ابھی ہمیں یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ باہر جانے کا راستہ کھلا ہے یا نہیں کیونکہ صبح لوگوں نے اپنے دفاتر کو بھی جانا ہے۔

Bahria Town Karachi

مظاہرہ کس نے منعقد کیا؟

بحریہ ٹاون کی جانب سے گوٹھوں کی زمینیں ہتھیانے پر صوبے کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ ایکشن کمیٹی نے مظاہرے کی کال دی تھی۔

کمیٹی میں قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ایاز لطیف پلیجو اور دیگر سندھی قوم پرست رہنما شامل ہیں۔ اس طرح کے متعدد مظاہروں کی قیادت کرنے والی سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس نے بھی مظاہرے کی حمایت کی تھی۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے حفیظ بلوچ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ''جیسے ہی احتجاج پرتشدد ہوگیا تو ہم نے اپنے تمام کارکنان کو واپس بلا لیا تھا اور وہاں جو کچھ ہوا اس میں ہم شریک نہیں تھے البتہ سندھ ایکشن کمیٹی کے ممبر اس میں شامل ہوسکتے ہیں''۔

واضح رہے کہ یہ اتحاد گذشتہ 8سالوں سے مقامی لوگوں کی اراضی کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

حفیظ بلوچ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے افسران اکثر ہی گوٹھوں کو دورہ کرتے ہیں اور وہاں کے رہائشیوں کو جگہ خالی کرنے کا کہتے ہیں۔ افسران اراضی کا متبادل دینے کی بھی پیشکش کرتے ہیں لیکن مقامی لوگ کسی قسم کی پیشکش لینے سے انکاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نور محمد گبول گوٹھ، عثمان اللہ رکھیو گوٹھ، ہادی بخش گبول گوٹھ اور عبد اللہ گبول گوٹھ میں اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بحریہ ٹاؤن ان اراضی کے علاوہ کمال جوکھیو، فیض گبول امیرالدین گبول کے زمینوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب سندھ ایکشن کمیٹی کے قادر مگسی نے کہا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کا مظاہرین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ''یہ بحریہ ٹاؤن کے اپنے لوگ تھے جنہوں نے جان بوجھ کر احتجاج کو تشدد کی طرف موڑا۔ ہم پرامن دھرنا دے رہے تھے اس لیے سندھ ایکشن کمیٹی کا بحریہ ٹاؤن میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں''۔

قادر مگسی نے بتایا کہ پولیس نے ایک درجن کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

دھرنے کا انعقاد قریبی دیہات کے رہائشیوں نے کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کو اپنی زمینیں دینے پر انہیں مجبور کیا گیا تھا۔

بحریہ ٹاؤن اراضی کے حصول کے لیے 2015 میں سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس تشکیل دی گئی تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ملیر کے علاقے میں دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

اتحاد کی سربراہی سلیم بلوچ نے کی تھی جس کی حمایت اس وقت کے وزیر مملکت برائے مواصلات ایم این اے حکیم بلوچ، ملیر کے پی ایس129 کے ایم پی اے حاجی شفیع جاموٹ، مؤرخ گل حسن کلمتی، ملیر کے جام عبد کریم، معروف کارکن یوسف مستی خان اور سابق ناظم خدا ڈنو شاہ نے کی۔

اس وقت انہوں نے اس بات کی دلیل دی تھی کہ سپریم کورٹ نے 2011 میں حکومت کو یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی زمین نجی اداروں کو الاٹ نہیں کرسکتی ہے۔

ATM

سپریم کورٹ کے احکامات

واضح رہے کہ مئی 2018 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو غیر قانونی طور پر اراضی دی تھی۔ سندھ حکومت نے ایم ڈی اے کو رہائشی اسکیم بنانے کے لیے اراضی الاٹ کی تھی۔

عدالت نے بحریہ ٹاؤن کو ہاؤسنگ اسکیم میں کوئی پلاٹ یا اپارٹمنٹ بیچنے سے بھی روک دیا تھا لیکن ایم ڈی اے نے پھر بھی بحریہ ٹاؤن کے ساتھ اراضی کا تبادلہ کیا۔

بحریہ ٹاؤن کیس کا پس منظر

گزشتہ برس 4 مئی کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملک ریاض کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا جبکہ بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے معاملہ نیب کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ اراضی کا تبادلہ غیرقانونی ہے۔ اس لیے حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو دی جائے۔

عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔

دوسری جانب عدالت نے اپنے ایک اور فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں دیے گئے فیصلے پر عمدرآمد کےلیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے پہلے 250 ارب روپے کی پیش کش کی تھی جسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد 16 ہزار ایکڑ زمین کے عوض 358 ارب روپے دینے کی پیشکش کی گئی تاہم اسے بھی عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں بحریہ ٹاؤن نے کراچی کے منصوبے کے لیے 405 ارب روپے کی پیش کش کی تھی لیکن عدالت نے اس پیش کش کو بھی مسترد کردیا جس پر ملک ریاض نے پیشکش مزید بڑھا کر 460 ارب کردی۔ ایک موقع پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک ریاض سے ایک ہزار ارب کا مطالبہ کیا تھا مگر ملک ریاض نے کہا کہ ان کے پاس اتنی دولت نہیں ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Asif  June 6, 2021 7:20 pm/ Reply

    Where are the law enforcement agenciea?
    Why action has not been taken against the leaders behind all these destructions?

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube