Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

سندھ:سائنوفارم بیچنےکاانکشاف،متعلقہ افسران کی معطلی کی درخواست

SAMAA | - Posted: Jun 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Vaccine

فوٹو: آن لائن

سندھ ميں غیر قانونی طور پر سائنو فارم ويکسين بيچنے کے انکشاف کے بعد تحقيقاتی کميٹی نے آفس اسسٹنٹ اور ڈسٹرکٹ ہيلتھ آفيسر ضلع وسطی کو معطل کرنے کی سفارش کردی ہے۔

تحقيقاتی کميٹی کے مطابق کراچی کے ضلع وسطی میں سائنو فارم ویکسین کا غیر قانونی استعمال ثابت ہوا تھا، جس پر آفس اسسٹنٹ آفاق الدین کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ویکسین کا چیک اینڈ بیلنس نہ رکھنے پر ڈی ایچ او ضلع وسطی ڈاکٹر مظفر اوڈھو کو بھی قصور وار قرار دے دیا۔ کميٹی کے مطابق دوران تحقیق ویکسین ملنے والی وائیلز کا ریکارڈ نہیں ملا۔

واضح رہے کہ محکمہ صحت نے فوکل پرسن ويکسينيشن سينٹر ڈاکٹر حرا کے انکشاف پر انکوائری کمیٹی بنائی تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل سندھ میں سائنو فارم کی کمی کی متضاد خبریں سامنے آئی تھیں۔ مئی میں محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی شہری کو سائنو فارم ویکسین کی پہلی ڈوز دینے پر پابندی ہوگی۔

حکمہ صحت سندھ نے طبی عملے کو ہدایت کی تھی کہ سائنو فارم کی بجائے ایسٹرا زینیکا ویکسین لگائی جائے۔ سائنو فارم کی فرسٹ ڈوز لگانے والے عملے کو شوکاز جاری کیے جائیں گے، جن لوگوں کو پہلی ڈوز لگ چکی ہے صرف انہیں سائنو فارم کی دوسری ڈوز لگائی جائے گی۔

محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سائنو فارم ویکسین پر پابندی کے باوجود کراچی ضلع شرقی میں 3335 ڈوز لگائی، ضلع غربی میں 913 اور ملیر میں 173 ڈوز لگائی گئیں۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے ٹویٹر پر اس بارے میں لکھا تھا کہ سندھ میں سائنو فام پر پابندی نہیں، اس وقت صرف پہلی ڈوز کو روکا گیا ہے۔ تاکہ سائنو فارم کی پہلی ڈوز حاصل کرنے والے لوگوں کیلئے مناسب مقدار میں سپلائی کو یقینی بنایا جائے۔

پارلیمانی سیکریٹری محکمہ صحت سندھ قاسم سومرو کا بھی کہنا تھا کہ سائنو فارم ویکسین کے استعمال پر پابندی نہیں لگائی۔ سپلائی نہ ہونے کے باعث سائنو فارم کی پہلی ڈوز کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ اسٹاک میں موجود سائنو فارم ان لوگوں کو لگائی جائے گی جن کو پہلی ڈوز سائنو فارم لگی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube