سندھ میں صحافیوں کےتحفظ کابل:خواتین کی کم نمائندگی پراظہارتشویش

SAMAA | - Posted: Jun 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فائل فوٹو

اٹھائیس مئی کو سندھ اسمبلی نے “سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز بل سال 2021” اتفاق رائے سے منظور کرلیا، جو کہ آزادی اظہار رائے اور انفارمیشن تک رسائی کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔

پاکستان میں صحافتی سرگرمیاں، جبری اقدامات کے ذریعے محدود کرنے پر آزاد عالمی صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ جہاں یہ بل آزاد اور شفاف صحافت کیلئے قوت انگیز ہے وہیں اس بل کے تحت وجود میں آنے والے کمیشن میں خواتین صحافیوں کی قابل قدر نمائندگی نہ ہونا باعث تشویش ہے۔

عکس ریسرچ ریسورس اینڈ پبلکیشن سینٹر اس امر پر فکر مند ہے کہ ایوان میں خاتون رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی کمیشن میں خواتین صحافیوں کی مناسب نمائندگی کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا، ادارہ اس کی مذمت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کی جانب حکومت سندھ کی توجہ مبذول کروائی ہے۔

یہ نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

مذکورہ ایکٹ کے تحت وجود میں آنے والے کمیشن میں صحافتی تنطیموں کی نمائندگی کم رکھی گئی ہے، فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی ہی حقیقی خطرات کا سامنا ایک کرتے ہیں، صحافی تنظیموں کی کمیشن میں مزید نمائندگی یقیناً حوصلہ افزاء صورتحال ہوگی۔

ایکٹ میں خواتین صحافیوں کو درپیش امتیازی مسائل اور خطرات مثلاً جنسی ہراسانی کو علیحدہ اور خصوصی حثیت میں متعارف نہیں کروایا گیا ہے۔

مذکورہ ایکٹ کے تحت سیکشوئل ہراسمنٹ کی تعریف ‘ *پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010 *’ سے مستعار لیتے ہوئے اس حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ اسی ایکٹ کا سیکشن 3 اس امر کا متقاضی ہے کہ سیکشوئل ہراسمنٹ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی میں خاتون ممبر کی موجودگی الزم ہو۔

سیکشن 8 کی سب کلاز 3 میں خواتین صحافیوں کی کمیشن میں خصوصی نمائندگی کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

سیکشن 14 کی سب کلاز ‘اے ‘ کے مطابق کمیشن صحافیوں کی جانب سے دائر کی گئیں شکایات کی تحقیق کرنے کا مجاز ہے، چونکہ ان شکایات میں جنسی ہراسانی کی شکایات بھی شامل ہیں چنانچہ اس پس منظر میں ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ کمیشن میں خواتین ممبران کی قابل قدر موجودگی نہ ہونے سے جنسی جرائم سے متعلق خواتین صحافیوں کے تحفظات کی مناسب انداز میں تشفی نہ ہو سکے گی۔

ادارہ مطالبہ کرتا ہے کہ خواتین صحافیوں کے لئے کمیشن میں مناسب نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ عکس ہمیشہ اس موقف کا داعی رہا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے اداروں میں فیصلہ سازعہدوں پر خواتین کو 33 فیصد تک نمائندگی دی جائے، چنانچہ صحافیوں کی مدد کے لیے بنائے گئے کسی بھی حکومتی کمیشن میں خواتین صحافیوں کی خصوصی موجودگی کو یقینی نہ بنایا جانا ایسا امر ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ایک ایسا غیر منصفانہ عمل ہے جو کہ ارادی یا غیر ارادی طور پر خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے. اس ضمن میں خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی مندرجہ بالا تجویز کا ایوان کی جانب سے رد کیا جانا بھی قابل غور ہے۔

مینیجنگ ڈائیریکٹر عکس ریسرچ سنٹر تسنیم احمر نے اس بل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کمیشن چو نکہ صحافیوں کی حفاظت اور ان کے خلاف ہونے والی ہراسمنٹ کے تدارک کے لیے وجود میں لایا جائے گا اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس اہم کمیشن میں خواتین صحافیوں کو کلیدی نمائندگی دی جائے۔

پاکستان میں خواتین صحافیوں کو آنالئن اور فزیکل ہراسمنٹ کا سامنا رہتا ہے ایسے میں مذکورہ کمیشن میں خواتین کو اضافی نمائندگی دے کرحکومت ہراسمنٹ اور دیگر مشکلات کا شکار ہونے والی خواتین صحافیوں کے اطیمنان اور تحفظ کا احساس مضبوط کر سکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube