حکومت نے رائےونڈ کےوزیراعظم کو سزا کے باوجود لندن بھیج دیا،بلاول

SAMAA | - Posted: Jun 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

نواب شاہ کا صدر ہو تو تین سال طبی ضمانت پر رہتا ہے اور بیرون ملک نہیں جاتا

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کیا دوبارہ عوام کو احتساب کے نام پر بےوقوف بنائیں گے۔اب اِن کا جو احتساب ہوگا وہ عوام کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے۔ یہ کس قسم کا احتساب اور انصاف ہے کہ وزیراعظم کے دوستوں پر الزام لگے تو وہ جیل نہ جائیں اور ان کے رشتہ داروں پر الزام لگائے تو کچھ نہ ہو۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ رائے ونڈ کے وزیراعظم کو سزا کے باوجود بیرون ملک بھیجا جاتا ہے اور وہ لندن میں بیٹھے ہیں۔ لیکن اگر نواب شاہ کا صدر ہو تو تین سال طبی ضمانت پر رہتا ہے اور بیرون ملک نہیں جاتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان،آئین اور قانون کے ساتھ مذاق ہے کہ دوغلا نظام چلتا ہے۔ قائد حزب اختلاف پنجاب سے ہو تو ضمانت ہوجاتی ہو اور اگر قائد حزب اختلاف سکھر کا ہو تو ایک عدالت سے دوسری عدالت طلبی ہوتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی پیش کش کی حکومت کے بجٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے پیپلزپارٹی کے تمام اراکین اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ہونگے۔

پاکستان مسلم لیگ سے متعلق انھوں نے کہا کہ اس جماعت نے تمام اختلاف کے باوجود ہمارے ساتھ کام کیا۔ اب حالات کچھ ناساز ہیں تاہم جب اور جیسے قوم کو ضرورت پڑے گی اختلاف کو بھلا کر ساتھ کام کریں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا پنجاب حکومت کو عثمان بزدار کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے اور اپوزیشن پنجاب کو بچاسکتی ہے لیکن وہ ایسا کرتے نہیں ہیں اس لیے دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔ استعفیٰ کی سیاست کرنےوالوں کو اب تک استعفیٰ دےدینا چاہیےتھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جو بیان بازی معیشت کے بارے میں ہو رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ وزیراعظم کا عوام سے تعلق نہیں ہے۔ حکومت کو پتہ ہی نہیں کہ عام آدمی کس دکھ سے گزر رہا ہے اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مشکل وقت ختم ہو چکا ہے۔عام آدمی کا نیا دن گزشتہ روز سے مشکل ہوتا ہے۔غربت اور بے روزگاری انتہا تک پہنچ چکی ہے۔

چئیرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ  اس وقت ملک ميں تاريخی مہنگائی ہے۔ ہم بجٹ کا انتظار کررہے ہیں جو اگلے ہفتے پیش ہوگا۔ حکومت ایک طرف کہتی ہے کہ  جی ڈی پی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو حکومت آئی ایم ایف اور عرب ممالک سے بھیک کیوں مانگ رہی ہے۔ معیشت بہتر ہوئی ہے تو امید ہے کہ تنخواہوں میں 100  فیصد اضافہ کریں گے اور پنشن کو 150 فیصد تک بڑھا دیں گے۔بجٹ میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیرخزانہ خود کہتے ہیں کہ انہوں نے آئی ایم ایف کیساتھ غلط معاہدہ کیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو معیشت کی اصل صورتحال کا علم نہیں۔جو پیسہ انہوں نے 90 دن میں باہر سے لانا تھا وہ اب اگلی مدت کی بات کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ہے۔جو بریفنگ دفتر خارجہ میں دی گئی اس پر ہم مطمئن نہیں ہیں اور اس معاملے کو جو ادارے دیکھ رہے ہیں ان کے چاہئے کہ پارلیمان سے بات کریں۔آرڈیننس کے ذریعے آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کی جا رہی ہے اورالیکشن کمیشن کو اس معاملے پر اسٹینڈ لینا پڑے گا۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن میں اپنا وفد بھیجےگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube