انسانی جانوں،اعضاء سےمسلسل کھیلتی بارودی سرنگیں

SAMAA | - Posted: Jun 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں جا بجا دبی بارودی سرنگیں اب تک لاتعداد افراد کی جانیں نگلنے کے علاوہ متعدد کو معذور بناچکی ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ عرصہ دراز سے جاری ایسے دھماکوں کا تازہ شکار جنوبی وزیرستان کے تین ننھے شہداء ہیں جن کے والدین و دیگر لواحقین منگل کے روز سے بارودی سرنگ کی بھینٹ چڑھنے والے تینوں بچوں کی میتیں لیے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سب ڈویژن لدھا کے علاقے ٹنگی بودینزئی میں منگل کی شام بارودی سرنگ پھٹ جانے کے نتیجے میں شہید ہونے والے تینوں بچوں کے لواحقین نے تدفین سے انکار کرکے اشکر کوٹ کے مقام پر خیمے لگا کر 3 دنوں سے دھرنا دیا ہوا ہے۔

گو شرکاء کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن تاحال مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

دھرنے پر بیٹھے احتجاجیوں نے شہید ہونے والے بچوں کو شہدا پیکج دینے سمیت علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے اور بچوں کے لواحقین کو سرکاری نوکریاں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ضم اضلاع میں بارودی سرنگوں کا مسئلہ عرصہ دراز سے چلا آ رہا ہے تاہم تازہ واقعے کے بعد علاقے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے مطالبے میں شدت آ گئی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے درجنوں واقعات میں متعدد افراد جاں بحق جب کہ درجنوں معذور ہو چکے ہیں۔

غالب خیال یہ ہے کہ علاقے میں لگائی گئی زیادہ تر بارودی سرنگیں دہشت گردوں نے اپنے مورچے اور کمین گاہیں محفوظ بنانے کے لیے بچھائی ہیں تاہم پی ٹی ایم کی جانب سے اس عمل کا الزام سیکورٹی فورسز پر عائد کیا جاتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار بابر نے حالیہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ابھی تک جنوبی وزیرستان سمیت مختلف قبائلی علاقوں میں 48 ہزار سے زائد بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی جا چکی ہیں جبکہ باقی سرنگوں کے حوالے سے کام جاری ہے۔

صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے پر کام ہو رہا ہے اور بہت جلد جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے تمام تر علاقوں میں موجود بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔

اس معاملے پر حکمران جماعت تحریک انصاف کے سینیٹر دوست محمد خان محسود نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ قبائیلی علاقہ بارودی سرنگوں کے باعث جل رہا ہے۔

سینکڑوں لوگ بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں شہید یا معذور ہوچکے ہیں لیکن ایسے افراد کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آرمی نے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن حکومت کی طرف سے متاثرہ افراد کے بحالی کےلیے کوئی کام نہیں کیا جارہا۔

سینیٹر دوست محمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے حادثات میں معذور و زخمی ہونے والوں اور شہداء کے ورثاء کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے۔

دوست محمد نے حکام کو تجویز بھی دی کہ علاقے کے نوجوانوں کو ٹریننگ دے کر بھی علاقے کو بارودی سرنگوں سے صاف کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں بھی ضم اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین نے بارودی سرنگوں کے واقعات کے خلاف احتجاج کی تھی۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سن 2009 سے شروع ہوئے آپریشن کو 12 سال ہوگئے مگر اب تک علاقے کو کلیئر نہیں کیا جاسکا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ تمام قبائیلی علاقہ جات کو مکمل طور پر بارودی سرنگوں سے صاف کردیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے صوبائی اسمبلی میں بار بار آواز اٹھائی مگر حکومتی وزیر روایتی بیانات دینے کے علاوہ کچھ نہیں کررہے۔

میر کلام وزیر کا کہنا تھا کہ علاقے کے لوگ ایک دہائی سے یہ مطالبہ کررہے ہیں لیکن اب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آخر اس کام میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے اور وہ کون سی مشکلات ہیں جو اس مسئلے کے حل میں حائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اداروں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ کم وقت میں علاقوں کو ان بارودی سرنگوں سے پاک کرسکیں لیکن شائد یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

میر کلام وزیر کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگوں کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت لڑکیوں کی ہوتی ہے اور معذوری کے بعد ان کی پوری زندگی اذیت میں گزرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بنوں کے علاقے جانی خیل، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں 3 جگہوں پر دھرنے جاری ہیں اور ہم اس بات پہ غور کررہے ہیں کہ ان تمام دھرنوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔

میر کلام وزیر کا کہنا تھا ہمارے پاس اب دو راستے ہیں یا تو ہم لاشوں کے ہمراہ پشاور وزیراعلیٰ ہاؤس کا رخ کریں گے یا پھر اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔

اس سے قبل سماء ڈیجیٹل کی شائع کردہ ایک رپورٹ میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ سرکاری سطح پر ان بارودی سرنگوں کے دھماکوں کا ریکارڈ کسی ایک جگہ اکٹھا نہیں کیا جاتا لیکن ضلع باجوڑ میں خصوصی افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن حضرت ولی شاہ بتاتے ہیں کہ ان کے ضلع میں محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ 4 ہزار 600 معذور افراد رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان میں ایک ہزار 600 سے زائد افراد ایسے ہیں جو مختلف بم دھماکوں یا بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں معذور ہوئے ہیں۔

اسی طرح جنوبی وزیرستان کے ایک سماجی کارکن حیات پریغال کہتے ہیں کہ سن 2008 سے لے کر سن 2015 تک ان کے ضلع میں رہنے والے محسود قبائل کے علاقے میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے 150 سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان کے مطابق ان واقعات میں 3 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے جبکہ 200 کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے 15 کی آنکھیں ضائع ہوگئی ہیں۔ کچھ سرکاری اعداد و شمار ان کے مشاہدات کی تصدیق کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وہ تمام اضلاع جو سن 2018 میں صوبے میں ضم ہونے سے پہلے قبائلی ایجنسیاں تھے ان میں کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ برائے سماجی بہود کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں تو معذور افراد کی تعداد 10 فیصد ہے لیکن ان اضلاع میں یہ تعداد 15 فیصد ہے جس کی بنیادی وجوہات بم دھماکے، بارودی سرنگیں اور پولیو ہیں۔

اس کے باوجود بارودی سرنگوں کا شکار ہونے والے افراد کے علاج کے لیے قبائلی اضلاع میں خاطر خواہ سہولیات میسر نہیں لہذا انہیں اکثر پشاور، اسلام آباد یا لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube