Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

کراچی میں بھارتی طرز کے کرونا کے 4 کیسز کی تصدیق

SAMAA | - Posted: May 31, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 31, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ایس او پیز پر عمل ناگزیر ہے

سندھ کے پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں کرونا کے بھارتی ویرینٹ کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 3 کا تعلق کراچی، جب کہ ایک کا اندرون سندھ سے ہے۔

سما کے پروگرام نیا دن میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے پارليمانی سيکريٹری برائے صحت قاسم سومرو نے بتایا کہ صوبے میں کرونا کی بھارتی قسم کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان افراد کو بھی ٹریس کر رہے ہیں، جو اس دوران متاثرہ افراد سے رابطے میں رہے۔ ایک متاثرہ شخص کا تعلق اندرون سندھ اور دیگر 3 کا تعلق کراچی سے ہے۔ چاروں مسافروں کو کراچی میں سرکاری نگرانی میں قرنطینہ کیا گیا۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدانخواستہ بھارتی طرز کا وائرس سندھ میں پھیلا تو حالات بہت خراب ہو جائیں گے۔ مگر ہم زائرین کو بیرون ملک جانے سے روک نہیں سکتے۔ ویکسین کیلئے سخت اقدامات اٹھانے چاہیں تھے۔

حکومت اقدامات پر قاسم سومرو نے بتایا کہ لاک ڈاؤن سے کرونا کے پھیلاؤ میں کمی آئی۔ ہمیں فضائی پابندیاں لگانی چاہیئں۔ ہمیں سنجیدگی سے ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔ اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ موبائل وینز کے ذریعے گاؤں دیہات اور دیگر علاقوں تک جایا جائے اور ویکسین سینٹر بنا کر دیئے جائیں۔ صوبے بھر میں اب تک 250 ویکسینشن مراکز قائم کيے جاچکے ہیں، جب کہ 12 لاکھ افراد کو ويکسينيٹ کیا جا چکا ہے۔

قاسم سومرو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویکسین کو اگلے مرحلے میں مزدوروں کیلئے بھی لازمی کرنا چاہیئے۔ اس سلسلے میں اقدامات تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبے ميں تقريبات پر پابندی ہے، ريسٹورانٹس ميں بھی ڈائننگ کی اجازت نہيں۔ مارکيٹوں کا وقت بھی محدود رکھا گیا ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جنوبی افریقی قسم کے7  اور بھارتی قسم کے ایک کیس کی تصدیق کی گئی تھی، جب کہ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بھی کراچی میں کرونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم کے تیزی سے پھیلنے کی تصدیق کی تھی۔

وزیر صحت سندھ نے بتایا تھا کہ 57 افراد کے نمونوں پرسیرولوجیکل تحقیق کی گئیں، جن میں سے کراچی میں 71 فیصد کیسز کرونا کی جنوبی افریقی قسم کے رپورٹ ہوئے اور 20 فیصد کیسز برطانوی قسم کے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان آنے والے 12 بھارتی سفارت کاروں میں سے ایک کی اہلیہ بھی کرونا وائرس میں مبتلا تھیں۔ پاکستان نے تمام 12 بھارتی اہل کاروں کو اہل خانہ سمیت قرنطینہ کی مدت پوری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کرونا کی بھارتی قسم کیا ہے؟

امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں پھیلنے والا ’ڈبل میوٹنٹ کرونا وائرس‘ کیلیفورنیا، برطانیہ اور جنوبی افریقا میں پائی گئی کرونا وائرس کی نئی اقسام سے مل کر بنا ہے۔

بھارت میں ڈبل میوٹنٹ کرونا وائرس کی منتقلی کی شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔

اس کے علاہ بھارت میں کرونا کی نئی قسم ’اے پی‘ بھی بیماری پھیلانے میں پہلے دریافت ہونے والی کرونا کی بھارتی اقسام سے 15 گنا زیادہ طاقت رکھتی ہے۔

بھارت کے سیلولر اینڈ مالیکیولر بائیولوجی سینٹر کے ماہرین کے مطابق ’اے پی ویرینٹ‘ بھارت میں پہلے سے موجود کرونا کی نئی اقسام سے بہت زیادہ طاقتور ہے اور یہ وائرس منتقلی کی 15 گنا زیادہ صلاحیت کا حامل ہے۔

کرونا کی نئی اقسام سے کرونا مریضوں کی حالت تین یا چار دنوں میں تشویشناک ہو جاتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube