Tuesday, November 30, 2021  | 24 Rabiulakhir, 1443

پیپلزپارٹی اور اے این پی کی شمولیت پرغورنہیں ہوا،فضل الرحمان

SAMAA | - Posted: May 29, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: May 29, 2021 | Last Updated: 6 months ago

پی ڈی ایم کا 4جولائی سے حکومت مخالف تحریک کااعلان

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اہم اجلاس پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی پی ڈی ایم میں شمولیت پر غور کے بغیر ختم ہوگیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز مسترد کرتے ہوئے حکومت کیخلاف ایک بار پھر احتجاجی مہم چلانے کا اعلان کردیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ٹف ٹائم دينے اور بجٹ پر یکجہتی کيلئے شہباز شريف کو ٹاسک ديديا، بجٹ آرہا ہے پارلیمانی جماعتوں کا سیمینار ہوگا، پيپلز پارٹی کے پاس مہلت ہے وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف)، مسلم لیگ نواز سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اہم اجلاس آج مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی واپسی سے متعلق کوئی غور و خوض نہیں کیا گیا، وہ پارٹی کا حصہ نہیں، ان کی واپسی ایسا موضوع نہیں کہ اس کیلئے وقت نکالا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس حکومت کو عوام کی تائيد حاصل نہ ہو وہ کسی چيلنج کا مقابلہ نہيں کرسکتی، خطے کی صورتحال پر پارليمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلايا جائے، ان کيمرہ اجلاس ميں متعلقہ ادارے حقائق سے آگاہ کريں

عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اليکٹرانک ووٹنگ مشين پری پول دھاندلی کا منصوبہ ہے، انتخابی اصلاحات پر حکومت کے يکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہيں۔

حکومت کیخلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ پی ڈی ایم 4 جولائی کو سوات ميں بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کرے گی، 29 جولائی کو کراچی ميں بہت بڑا جلسہ ہوگا جبکہ 14 اگست کو اسلام آباد ميں آزادی کا مظاہرہ کريں گے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ غیرآئینی اقدامات اور کرپشن کو بے نقاب کرنے کيلئے قانونی ماہرین کی کمیٹی بنادی، حکومت کو ٹف ٹائم دينے اور بجٹ پر يکجہتی کيلئے شہباز شريف کو ٹاسک دیا گیا ہے، بجٹ آرہا ہے پارلیمانی جماعتوں کا سیمینار ہوگا، پيپلز پارٹی کے پاس مہلت ہے وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں۔

مریم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جو مؤقف پی ڈی ایم سربراہ کا ہے وہی نواز شریف کا بھی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube