لنڈی کوتل:پاک افغان شاہراہ پر تیسرے دن بھی دھرنا جاری

SAMAA | - Posted: May 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

لنڈی کوتل بائی پاس پر خوگہ خیل قوم کا اپنے مطالبات کے حق میں تیسرے روز بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین نے پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر رکھا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

طورخم سرحد پر کسٹم کلیئرنس ایجنٹس نے بھی سرحد عبور کرنیوالی گاڑیوں کی کلیئرنس بند کردی، جس کے باعث افغانستان کیلئے سپلائی معطل ہوگئی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاک افغان شاہراہ پر این ایل سی اور ایف بی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران پتھراؤ سے 6 پولیس اہلکار اور 5 مظاہرین زخمی ہوگئے تھے۔

مظاہرین کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طور پر لنڈی کوتل بازار بھی بند رہا تاہم بعد میں مظاہرین اور پولیس میں مذاکرات کے بعد مظاہرین احتجاجی کیمپ میں واپس چلے گئے۔

دوسری جانب احتجاج کے دوران گرفتار 35 افراد کو آج مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے تمام افراد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات قابو کرنے کیلئے جمرود اور باڑہ سے بھی پولیس طلب کرکے شاہراہ کے مختلف مقامات پر تعینات کردی گئی ہے جبکہ پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکاروں کو بھی طلب کرلیا گیا۔

مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں؟

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ کئے گئے وعدوں کو تحریری شکل نہیں دی جارہی، این ایل سی اور ایف بی آر تحریری معاہدے کیلئے تیار نہیں، جس کے خلاف عوام نے شہید موڑ پر دھرنا شروع کیا۔

احتجاج دھرنے کی قیادت کرنیوالے مقامی رہنماء مفتی اعجاز شنواری نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہمارے ساتھ 2015ء میں معاہدہ ہوا تھا کہ مختص کردہ زمین کے کرائے کی مد میں قوم کو 2 کروڑ روپے سالانہ ملیں گے مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

مفتی اعجاز کا کہنا تھا بقایا جات کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے این ایل سی کو 300 کنال کی زمین دی تھی مگر انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مزید زمین پر قبضہ کرلیا۔

مفتی اعجاز نے کہا کہ ہمارے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہوری ہے جس کی وجہ سے قوم میں اشتعال پیدا ہوگیا اور ہم احتجاج پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری قومی زمین ہے جو انہیں لیز پر دی گئی تھی، اس کے سالانہ کرائے کی مد میں ہمارے 12 کروڑ کے بقایا جات ان کے ذمہ واجب الادا ہیں۔

مفتی اعجاز نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ ابھی تک ہمارے پاس نہیں آیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاہدہ براہ راست ایف بی آر اور این ایل سی کے ساتھ ہوا تھا، ہمارے گرفتار افراد کو عدالت نے رہا کردیا ہے مگر مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

مفتی اعجاز شنواری کا کہنا تھا کہ ہم معاہدے کی منظوری کے علاوہ مزید کسی قسم کے مذاکرات کیلئے تیار نہیں۔

قوم شنواری خوگہ خیل سے کیا وعدہ کئے گئے تھے؟

مقامی صحافیوں کے مطابق 2015ء میں قوم شنواری خوگہ خیل، نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مابین اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ پاک افغان سرحد طورخم پر زیر تعمیر انٹرنیشنل ٹرمینل میں قوم شنواری خوگہ خیل کو اپنے حق کے مطابق درج ذیل فائدے، مراعات اور سہولیات دی جائیں گی۔

ٹرمینل کے ہر سیکشن سے قوم شنواری خوگہ خیل کو 19 فیصد منافع دیا جائے گا جبکہ اس ٹرمینل پر ملازمتیں قوم خوگہ خیل کو دی جائیں گی۔

قوم شنواری خوگہ خیل کو سالانہ 2 کروڑ روپے دیئے جائیں گے، جس میں  بتدریج 5 یا 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

اگر این ایل سی کا 300 کینال سے زائد کسی زمین پر قبضہ نکلا تو پھر اضافی زمین کا فائدہ بھی اسی فارمولے کے تحت قوم خوگہ خیل کو دیا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube