Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخی اور شناختی کارڈبلاک کرنے پرہائیکورٹ برہم

SAMAA | - Posted: May 19, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: May 19, 2021 | Last Updated: 4 months ago

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے پرنادرا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پیمرا کی جانب سے سابق سینیٹر کو ٹی وی پر دکھائے جانے سے متعلق پابندی بھی ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

عدالت نے حافظ حمد اللہ کے شناختی کارڈ کو بلاک اورشہریت منسوخ کیے جانے کے خلاف دائر کیس میں اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے  نادرا کے ان اقدامات کو کالعدم قرار دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہریت سب سے بڑا بنیادی حق ہے اور نادرا کے پاس اس حق کو تلف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے ایسے اقدام کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ایک بدترین قسم بھی قرار دیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز کی کسی رپورٹ کو نادرا براہ راست کیسے دیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اینٹلی جنس ایجنسیز تو کسی وزارت یا ڈویژن کے ماتحت ہوتی ہیں اور ان کی رپورٹ تومتعلقہ وزارت سے ہی آسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ ایک دن کے لیے بھی شناختی کارڈ بلاک کریں تو اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے پیمرا کی جانب سے سابق سینیٹر کو ٹی وی پر دکھانے کی پابندی کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔

نادرا نے اکتوبر 2019 میں حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ بلاک  کرکے ان کی شہریت منسوخ کردی تھی جس کے بعد پیمرا نے بھی انہیں ٹی وی پر دکھائے جانے سے روک دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube