حکومت چلی جائےلیکن کسی مافیاکو رعایت نہیں دوں گا، وزیراعظم

SAMAA | - Posted: May 11, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: May 11, 2021 | Last Updated: 1 month ago

وزیراعظم کی عوام سےٹیلیفونک گفتگو

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری حکومت چلی بھی جائے تو چینی مافیا سمیت کسی مافیا کو رعایت نہیں دونگا۔

قوم کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا کی پہلی اور دوسری لہر میں قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا، جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ہم پرکرم کیا اور ہم پہلی اور دوسری لہر سے کامیابی کے ساتھ نکلے، کرونا کی تیسری لہر خطرناک ہے، بھارت کے حالات سب کے سامنے ہیں، ہمارے پڑوس میں بنگلادیش، ایران میں بھی کیسز تیزی سے اوپر جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں کیسز مزید تیزی سےبڑھتے جارہےہیں، وہاں لوگ سڑکوں پر مررہے ہیں، آکسیجن کی کمی ہے، خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں کیسز تیزی سے اوپر نہیں جارہے، قوم سے اپیل ہے کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے پرعمل کریں، عید کی چھٹیوں میں ماسک لازمی پہنیں اور لوگوں کو کرونا سے بچائیں، عوام ایس او پیز پرعمل کریں کہ لاک ڈاوَن نہ کرنا پڑے، لاک ڈاوَن سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

سفارتخانوں سے متعلق براہ راست نشر نہیں ہونی چاہیےتھی

سفارتکاروں سے متعلق سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں نے ڈپلومیسی کی حدتک زبردست کام کیا ہے، سفارتخانوں سے متعلق جوبات کی وہ براہ راست نشر نہیں ہونی چاہیےتھی، سفارتخانوں سے متعلق جو بھی شکایات ہوں گی وہ پورٹل پردرج کرائی جا سکتی ہے۔

شہبازشریف پر صرف منی لانڈرنگ کا کیس نہیں پوری کتاب ہے

شہبازشریف کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ شہبازشریف باہر جانے کی نہیں بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں، شہبازشریف پر صرف منی لانڈرنگ کا کیس نہیں پوری کتاب ہے ، ان کا پیسہ باہر ہے جب بیگم،بیٹے کو گھر لینا ہوتا تو پیسہ باہرسے آجاتاہے، انکےبچے اربوں کے گھروں میں رہتےہیں وہ پیسہ چوری ہوکر باہرگیا،مشرف نے زرداری اور نوازشریف کو این آراو دیا جس سے ملک کانقصان ہوا، مجھے ووٹ نہ ملنے کا خوف نہیں بلکہ میرے اندر خوف خدا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر نواز شریف نے چوری نہیں کی تو عدالتوں کا سامنا کیوں نہیں کرتے، عدالتیں آزاد ہیں، اگر آپ بے قصور ہیں توپاکستان آئیں، مریم نواز کے نام پر لندن میں 4 بڑے بڑے محل ہیں، برطانوی وزیراعظم ان گھروں میں نہیں رہ سکتاجن میں ان کے بچےرہ رہےہیں ، جب تک زندہ ہوں شریف خاندان کو نہیں چھوڑوں گا، اس بار شریف خاندان کو این آر او نہیں ملے گا۔

شوگر ملز مالکان نے 10ارب ٹیکس دیا اور 29ارب کی سبسڈی لی

جہانگیر ترین گروپ کی ملاقات کے حوالےسے وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کبھی کسی سے ناانصافی نہیں کی، جب میں مخالف سے انصافی نہیں کرتا تو اپنی پارٹی کے رہنما کے ساتھ کیسے کروں گا، جنہوں نے چینی مہنگی کرکے عوام کو نقصان پہنچایا، حکومت چلی جائے لیکن انہیں این آر او نہیں دوں گا، جتنے بھی طاقتور ہیں ان سب کی شوگر ملز ہیں، ایک روپیہ چینی مہنگی ہوتی ہے تو ان شوگر ملوں کی جیب میں 5 ارب روپیہ چلا جاتا ہے۔ انہوں نے 5 برس میں آج تک 22 ارب روپے ٹیکس دیا ہے، جن میں سے انہیں 12 ارب روپے ری فنڈ اور 29 ارب روپے کی سبسڈی ملی ہے۔ نہ یہ ٹیکس دیتے ہیں اور جب چاہیں چینی مہنگی کرتے رہتے ہیں، یہ وعدہ ہے کہ سارے مافیاز سے کسی سے رعاقیت نہیں ہوگی لیکن کسی سے نانصافی نہیں ہوگی۔

تحریک انصاف 25سال پہلے بنائی تھی

طاقت کی حکمرانی سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 25سال پہلے بنائی تھی ، میرے پاس اتنا پیسہ تھا کہ کچھ نہ کرتا تو زندگی گزار سکتا تھا، پاکستان میری عمر سے تقریباً5سال بڑاہے، دنیا کی تاریخ میں جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی لیکر آئی تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک انسانی قانون ہے اوردوسرا جانوروں کاقانون ہے ، انسانی معاشرے میں قانون کامطلب ہے کمزورکو طاقتورسےتحفظ دینا، ریاست مدینہ کی بات کروں تو سمجھتے ہیں سوئچ آن ہوگیا دودھ کی نہریں بہنے لگیں۔

ملک میں انصاف کا نظام قائم کیے بغیرترقی نہیں کرسکتے

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں جسٹس منیر کے ایک فیصلے سے انصاف کا نظام متاثر ہوا، جسٹس منیر نے طاقتور کےحق میں فیصلہ دیا تھا، نواز شریف کےدورمیں سپریم کورٹ پرڈنڈوں سےحملہ کیاگیا پاکستان میں انصاف کا نظام قائم کیے بغیرترقی نہیں کرسکتے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کبھی کمزور طبقے کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا، معاشرہ سزا نہیں دے گا تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، قانون کا کام کمزور اورطاقتور دونوں کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ جو قومیں قانون کی بالادستی لیکرآئیں انھوں نےترقی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا ہوں۔ کرکٹ کی وجہ سے پوری دنیا دیکھی اور وہاں کا سسٹم دیکھا، دنیا کی تاریخ ہے کہ جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے اوپر گئی، بہترین معاشرے میں قانون غریب کو تحفظ دیتا ہے، ریاست مدینہ اس لیے عظیم ریاست بنی کیونکہ اس میں قانون سب کے لئے برابر تھا، سائیکل اور بھینس گائے چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا، جب ملک کاسربراہ اورطاقتورلوگ چوری کرتےہیں توملک تباہ ہوجاتا ہے، ہر سال غریب ملکوں سے ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیرملکوں میں جاتا ہے۔

وزراء کی کارکردگی

وزراء کی کارکردگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ٹیم کے 11کھلاڑی ہوتے ہیں سب سپراسٹار نہیں ہوتے کئی وزرا بہت اچھا کام کررہے ہیں اور وزرا اچھا کام نہیں کریں گے تو ٹیم تبدیلیاں لانا پڑے گی۔

مغربی ممالک کو چین کی تیز رفتاری سے خوف میں مبتلا ہیں

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کو چین کی تیز رفتاری سے خوف ہے ، مغربی ممالک نے بھارت کو مضبوط طاقت بنانے کا فیصلہ کیا ہے، ہندوستان چین کیخلاف کھڑا ہوا تو یہ احمقانہ ہوگاکیونکہ اپنی تباہی کرےگا، مغربی ممالک کو خوف ہے کہ چین ان سے آگے نکل جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالےسے دنیا میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ، بدقسمتی سے مغربی ممالک کشمیریوں کیساتھ اس طرح نہیں کھڑا جتنا ظلم ہورہاہے، جب تک 5 اگست کی صورتحال واپس نہیں ہوتی بھارت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

غریبوں کےلیے ہاؤسنگ اسکیم

ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلی بار ان لوگوں کیلئے گھربنانے کی کوشش ہورہی ہے جن کے پاس اتنا کیش نہیں ہوتا، دنیا میں لوگوں کو بینک گھر بنانے کیلئے قرض کی شکل میں پیسہ دیتے ہیں، جو رقم کرایے پر جاتی ہے وہ پھر ان کے گھر کی قسطوں میں چلاجاتاہے، پاکستان میں پہلی بار لوگوں کو گھروں کیلئے قرض دیئےجارہےہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 0.2 فیصد لوگوں کو بینکس قرضے دیتے ہیں جبکہ بھارت میں 10فیصد لوگ بینکوں سے قرضہ لیکرگھر بناتےہیں ، شوکت ترین ایک خاص بینک بنانےکےکام میں لگے ہوئے ہیں، خاص بینک کاصرف کام یہی ہوگاکہ وہ گھروں کیلئےقرض فراہم کرے، انشااللہ آنیوالےدنوں میں گھرخریدنےوالوں کیلئے آسانیاں ہوں گی، بینک سستے قرضے دےرہے ہیں حکومت تین لاکھ سبسڈی بھی دےرہی ہے۔

مہنگائی مجھے سب سے زیادہ تنگ کرتی ہے

مہنگائی سےمتعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا میں بجلی اور گیس کی قیمتیں 64فیصد اوپر گئی ہیں، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں 29.4 فیصد بڑھی ہیں، کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کا اثرمہنگائی کی شکل میں نظرآیا، بجلی کی قیمتیں اوپر جانےسے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوتاہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بجلی کے کنٹریکٹ ہماری حکومت آنے سے پہلے کےہیں، آئی پی پیز کیساتھ کنٹریکٹ 30،30سال پرانے ہیں ، قطر سے گیس کا کنٹریکٹ بھی ہماری حکومت سے پہلے کیاگیا، کپیسٹی پےمنٹ کامطلب ہے بجلی استعمال کریں یا نہ کریں پیسے پورےدینے ہیں، نون لیگ حکومت میں کپیسٹی پےمنٹ 2013میں 180ارب روپے تھا، جب ہماری حکومت آئی تو کپیسٹی پے منٹ 2018میں 400ارب روپے ہوگئی، کپیسٹی پےمنٹ 2023 میں 1ہزار 455ارب روپے پر پہنچ جائےگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube