کراچی پولیس نےتحریک لبیک کی ہڑتال سےجڑےاہم رازکاپتہ لگالیا

SAMAA | - Posted: May 4, 2021 | Last Updated: 6 days ago
SAMAA |
Posted: May 4, 2021 | Last Updated: 6 days ago

بشکریہ آن لائن

پانچ سال قبل 8 جون کو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے ہڑتال کا اعلان کیا۔ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی گئی کہ وہ پارٹی کی دی گئی احتجاج کی کال کی حمایت کرتے ہوئے ایک دن کے لیے کاروباری سرگرمیاں معطل کر دیں۔

ایم کیو ایم کے مطابق رینجرز اہلکاروں نے اس وقت کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کی پی آئی بی کالونی میں واقع رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور دوران کاروائی رینجرز اہلکاروں نے ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر کے دروازے پر رائفل اور لاتیں ماریں جو کہ قابل مذمت تھا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز سندھ نے وضاحت بھی جاری کی کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر پر چھاپہ نہیں مارا گیا مگر ایم کیو ایم نے ہڑتال کی کال واپس نہ لی۔

یہ کسی بی سیاسی جماعت کی شہر میں ہڑتال کی آخری کال ثابت ہوئی۔ عموما جب ایم کیو ایم کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کیا جاتا تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل جاتی تھی۔ سب سے پہلے تاجر اپنی دکانوں کے شٹر گراتے۔ ایسی خبر جب بھی آتی تو جو لوگ گھر میں موجود ہوتے وہ اللہ کا شکر ادا کرتے اور گھر سے باہر نکلنے کی ہمت بھی نہ کرتے تھے اورجو افراد کام کے سلسلے میں گھر سے باہر ہوتے وہ فورا گھر پہنچنے کو ترجیح دیتے۔ لمحوں میں سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا تھا اور کم از کم ایک دن کے لیے شہر کی آب و ہوا میں بہتری آجاتی۔ گویا کہ پورے شہر میں ہو کا عالم ہوتا تھا۔

لیکن 8 جون 2016 کو ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں پر تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور سب حیران تھے۔ کئی دنوں تک شہر میں یہ ہی باتیں ہوتی رہیں کہ ہڑتال ناکام ہوگئی اور سب سے پریشان کن بات تو یہ تھی کہ  اس وقت الطاف حسین  پارٹی کے سربراہ تھے اور لندن سے بیٹھ کر سارا نظام چلا رہے تھے۔

سال 2016 کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت نےکراچی کو بند کروانے کی جرات نہ کی۔ 5 سال کافی سکون  سے گزرگئے۔ کراچی کے باسی تو یہ بھی بھول گئے کہ شہر میں ہڑتال بھی ہوتی ہے۔

گزشتہ ماہ 12 اپریل کو کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کو لاہور پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ٹی ایل پی فرانس کے جریدے میں شائع گستاخانہ مواد کی اشاعت اور فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے 20 اپریل کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ سعد رضوی کی گرفتاری کی اطلاعات آنے کے بعد شہریوں کو اس بات کا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ اچانک ایسا کچھ ہونے والا ہے جو ماضی میں کسی ہائی پروفائل گرفتاری کے بعد ہوتا تھا۔

ٹی ایل پی کے کارکنان نے سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں سڑکیں اور ہائی ویز بند کر دیں۔ کراچی میں بھی ٹی ایل پی کارکنان 11مقامات پر جمع ہوگئے۔ ان میں میری ویدر ٹاور،اورنگی ٹاؤن نمبر5، بلدیہ ٹاؤن نمبر 4، نیٹی جیٹی فلائی اوور، اسٹار گیٹ،ایم اے جناح روڈ، کورنگی ڈھائی نمبر، حسن اسکوئر، لیاقت آباد اور نیپا چورنگی شامل تھے۔ ان مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوئی۔

مظاہرین کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کروانے کے لیے رینجرز جیسے ہی میدان میں آئی تو تصادم شروع ہو گیا۔ 13 اپریل کی شام ٹی ایل پی مظاہرین نے بلدیہ ٹاؤن نمبر 4 میں پولیس کی موبائل پر حملہ کیا اور اسٹارگیٹ اور اورنگی ٹاؤن نمبر 5 میں موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی۔ تاہم پولیس اور رینجرز نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کروا دی۔

اس کےبعد 18 اپریل کو ٹی ایل پی اور لاہور کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیرمین مفتی منیب الرحمان نے ملک بھر میں ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کیا۔ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کاروبار ایک دن کے لیے بند رکھا۔تاہم پورٹس، بینکس، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور فارن ایکسچینج کے مراکز کھلے رہے لیکن شہر کے مصروف تجارتی مراکز جن میں صدر، جوڑیا بازار، طارق روڈ، بہادرآباد اور کلفٹن شامل ہیں،وہ بند رہے۔

شہر کے چند مقامات ایسے بھی تھے جہاں کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہے۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ملیر کے علاقے معین آباد میں واقع ایک پان کی دکان میں کام کرنے والے لڑکے معاذ نے بتایا کہ وہ معمول کے مطابق افطار کے بعد اپنی دکان کھول کر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ماسک پہنے کچھ افراد علاقے میں آگئے۔ انہوں نے اپنی موٹر سائیکلیں ماڈل کالونی ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک کے ساتھ کھڑی کیں اور ہوائی فائرنگ شروع کردی۔

مسلح افراد نے سب کو باآواز بلند متنبہ کیا کہ 10 منٹ میں اپنی دکانیں بند کردو۔اس کےبعد تمام دکانداروں نے دکان کے باہر پڑا سامان دکان کے اندر پھینکا اور ڈیڈ لائن ختم ہونے سےپہلےاپنی اپنی دکانیں بند کردیں۔مسلح افراد تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد علاقے میں آتے اور دیکھتے کہ کہیں کسی نے دکان تو نہیں کھولی۔

اپنے لڑکپن کے ایک یادگار قصے کا حوالہ دیتے ہوئے معاذ نے بتایا کہ اس کی عمر صرف 11 سال تھی جب اس نے ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی۔2013 میں ایم کیو ایم نے عام انتخابات کے دوران الیکشن میں ہونے والے بم دھماکوں میں مارے گئے کارکنان کے لیے صوبے میں یوم سوگ کا اعلان کیا تھا۔

معاذ نے بتایا کہ 8 سال پہلے میں اسی دکان میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ منہ ڈھانپے کچھ مسلح افراد آئے اور انہوں نے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ میرے والد نے مجھ سمیت دکان کے باہر پڑے سامان کو اٹھا کر دکان کے اندر پھینکا اور شٹر گرا دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے والد واپس آئےاورشٹر اٹھا کر مجھے باہر نکالا اور پھر شٹر گرا کے گھرکو چل دیے۔

گویا ٹی ایل پی نے وفاقی حکومت کے وفد کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک بھر میں جاری احتجاج ختم کردیا لیکن کراچی پولیس ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری سے مذاکرات کی کامیابی تک کالعدم جماعت کے معاشی مرکز میں دکھائے گئے پاور شو اور اس کے نتیجےمیں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

ٹی ایل پی کارکنان کے ساتھ تصادم کے دوران کراچی پولیس نے کالعدم جماعت کے کئی کارکنان کو احتجاج کے دوران قانون کو ہاتھ میں لینے کے الزم میں گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کے دوران پولیس کو ایک اہم سراغ مل گیا۔ گرفتار افراد نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ وہ ماضی قریب میں ایم کیو ایم کا حصہ رہے ہیں۔

کورنگی ڈھائی نمبر میں ٹی ایل پی کارکنان نےمرکزی شاہراہ پر جمع ہو کردھرنا دیا اور ٹریفک کی روانی بند کردی۔ کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری اس مقام پر تعینات کی گئی تھی۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ضلع کورنگی کےایس ایس پی فیصل عبداللہ چاچڑ نے بتایا کہ دھرنے کے دوران شرکا نے کئی بار پولیس پر حملہ کیا اور جب پولیس جوابی کاروائی کرتی تو حملہ آور پتلی پتلی گلیوں میں بھاگتے ہوئے فرار ہوجاتے۔

ایس ایس پی کے مطابق جب پولیس کو دھرنے کے دوران قانون کو ہاتھ میں لینے میں ملوث کچھ افراد کی گرفتاری میں کامیابی حاصل ہوئی تو پتا چلا کہ یہ ملزمان کسی زمانے میں ایم کیو ایم سے وابستہ رہے ہیں۔ ایک ملزم کا حوالہ دیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی نے بتایا کہ دوران احتجاج پولیس نے شہزادہ شہباز عرف کاشف عرف بندھانی کو گرفتار کیا جو ماضی میں ایم کیو ایم کا حصہ رہا۔

ایس ایس پی کورنگی کے مطابق شہباز نے 2000 میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور 2 سال بعد پارٹی کو چھوڑ کر کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ شہباز کے خلاف چوری، ڈکیتی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے 4 مقدمات ضلع کورنگی کےمختلف تھانوں میں درج ہیں۔

ایس ایس پی کورنگی نے مزید بتایا کہ شہباز کئی بار پولیس کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوچکا ہے مگر ہر بار وہ ضمانت پرجیل سے باہر آجاتا۔ 2018 میں شہباز نے ٹی ایل پی میں شمولیت اختیار کر لی اور اس وقت ملزم کالعدم جماعت کےلیے فنڈز اکٹھا کرتا ہے۔

اس کےعلاوہ بلدیہ ٹاؤن نمبر 4 بھی ایسا مقام تھا جہاں پولیس کو مظاہرین کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین جانوری نے بتایا کہ مظاہرین کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کو بحال کروانے میں پولیس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایس ایس پی کیماڑی نے بتایا کہ بلدیہ ٹاؤن میں واقع پٹنی محلے سے کچھ مسلح ملزمان آتے، پولیس پر حملہ کرتے اور بھاگ جاتے۔ ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق پولیس نے ضلع بھر میں دوران احتجاج املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 43 مقدمات درج کیے۔

بلدیہ ٹاؤن میں پٹنی محلہ خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے کیوں کہ ایم کیو ایم کےدہشت گرد فاروق پٹنی عرف فاروق دادا کا تعلق بھی اس ہی علاقے سے تھا۔ اگرچہ 1995 میں مقابلے کے دوران فاروق دادا مارا گیا لیکن آج بھی پٹنی محلے کو بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیوایم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خوف کے کلچرکو فروغ دینے والے عناصر آج بی شہر قائد میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube