افغان جنگ! اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو10سال مکمل

SAMAA | - Posted: May 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: May 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago

دو مئی 2011کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو 10سال مکمل ہوگئے۔

واقعے نے جہاں عالمی سطح پر کئی اثرات مرتب کیے وہیں القاعدہ کو سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے دھچکہ لگا۔

القاعدہ کی سرگرمیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم سمجھی جانے والی القاعدہ مرکزی سطح پر بظاہر ٹوٹ پھوٹ اور قیادت کے بحران کا شکار رہی مگر اس کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں میں اس سے جڑی ہوئی شاخیں ابھی تک مؤثر ہیں۔

اسامہ بن لادن کون تھے؟

سعودی عرب میں مارچ 1957کو پیدا ہونے والے اسامہ بن لادن کے والد ایک معروف تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے۔ ان کا شمار سعودی عرب کے امیر ترین کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔

کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں سول انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران اسامہ کی ملاقات وہاں شدت پسند نظریات کےحامل طلبہ اور اساتذہ سے ہوئی جس کے بعد ان کے نظریات میں بھی تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

جب سابق سوویت یونین (موجودہ روس) نے 1979میں افغانستان پر حملہ کیا تو اسامہ بن لادن کی زندگی میں بھی ایک نیا موڑ آیا۔ وہ 80کی دہائی میں افغانستان آئے اور معروف فلسطینی شدت پسند رہنما عبداللہ یوسف عزام کی تنظیم ‘مکتب الخدمت’ (جسے افغان سروس بیورو بھی کہا جاتا ہے) سے وابستہ ہوگئے۔

ملاعمر:پسماندہ علاقےکےغریب لڑکےکا طاقتورترین رہنما بننے تک کا سفر

یہ تنظیم ایمن الظواہری اور وائل حمزہ جلیدان جیسے شدت پسند رہنماؤں کے ساتھ مل کر افغانستان میں اس وقت سوویت یونین (روس) کے خلاف لڑائی کے لیے عرب ملکوں سے جنگجوؤں کی بھرتی اور مالی اعانت کے لیے بنائی گئی تھی۔

القائدہ کی تشکیل

عبداللہ عزام 1989میں پاکستان کے شہر پشاور میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے جس کے بعد اسامہ بن لادن نے تنظیم کی قیادت سنبھالی اور اسے ‘القاعدہ’ کے نام سے فعال کیا۔

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے 1994میں شہریت ختم کرنے کےبعد اسامہ بن لادن کچھ عرصہ سوڈان میں رہے لیکن وہاں سے بھی نکال دیے گئے اور بالآخر 1996میں دوبارہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ افغانستان آگئے۔ یہاں ‘افغان طالبان’ ملک کے دارالحکومت کابل پر ان کا قبضہ تھا۔

افغانستان آمد کے دو سال بعد اسامہ بن لادن نے ایک فتوے کے ذریعے امریکیوں اور یہودیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا۔

گیارہ ستمبر 2001کو امریکا پر حملوں کی ذمے داری اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ پر عائد کی گئی اور امریکا نے 2001کے آخر میں 40ملکوں کے مشترکہ اتحاد کے ساتھ افغانستان پر حملہ کردیا۔

قبل ازیں اسامہ بن لادن کو آخری بار پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ‘تورا بورا’ کے پہاڑوں میں دیکھا گیا تھا۔ اس کے لگ بھگ 10سال بعد مئی 2011میں ایبٹ آباد کے ایک گھر میں ہونے والی ایک کارروائی میں ان کی ہلاکت ہوئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube