Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

اسامہ ستّی قتل کیس:دہشتگردی کی دفعات ہٹانےکیخلاف اپیل پرجواب طلب

SAMAA | - Posted: Apr 26, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 26, 2021 | Last Updated: 5 months ago
USAMA-JUDICIAL-inquiry-Isb-Pkg11-01

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسامہ ستّی قتل کیس سے دہشتگردی کی دفعات ہٹانے کے خلاف اپیل پر وفاقی حکومت اور پوليس سے 27 مئی تک جواب طلب کر لیا۔

پیر 26اپریل کو مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ہٹانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے  12اپریل کو مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات نکالنے کا حکم سنایا تھا۔

پوليس اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان اسامہ ستی کے لواحقين کی جانب سے اے ٹی سی کا فيصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ ميں چيلنج کيا گيا تھا۔

اسامہ ستی کیس سے دہشت گردی کی دفعات خارج

ہائی کورٹ نے کيس سے دہشت گردی کی دفعات ہٹانے کے خلاف اپیل پر وفاقی حکومت سے جواب مانگ ليا ہے۔ پانچوں گرفتار پولیس اہلکاروں، ایس پی صدر اور انسپکٹر کو بھی نوٹس جاری کر ديا گيا۔

ملزمان میں مدثر اقبال، شکیل احمد، محمد مصطفیٰ، سعید احمد اور افتخار احمد شامل ہیں۔ عدالت نے تمام فریقین کو 27 مئی تک جواب جمع کرانے کا حکم ديا ہے۔

قتل کا واقعہ

واضح رہے کہ 22 سالہ اسامہ ندیم ستی 2 جنوری کو اسلام آباد کی سری نگر ہائی وے (سابق کشمیر ہائی وے) پر جی 10 کے اشارے سے کچھ میٹر آگے پولیس کی انسداد دہشت گردی فورس کی گولیوں سے جاں بحق ہوئے تھے۔

واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی نے معاملے کی عدالتی انکوائری کا حکم دیا تھا۔ واقعہ پر پولیس کا مؤقف یہ تھا کہ ڈکیتی کی کال کے بعد مشکوک معلوم ہونے والی کالے شیشوں والی گاڑی کو اے ٹی ایس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اور گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کے نتیجے میں اسامہ ستی کی ہلاکت واقع ہوئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube