چوری شدہ سافٹ ویئرز کا بڑھتا ہوا استعمال اور اسکےنقصانات

SAMAA | - Posted: Apr 24, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 24, 2021 | Last Updated: 3 months ago

ستر فیصد لوگ ایسے ہی سافٹ ویئر استعمال کررہے ہیں

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے لیکن ہم تو اس دوڑ میں بھی پیچھے رہ گئے پاکستانیوں کی اکثریت چوری کے سافٹ ویئرز استعمال کر رہے ہیں جس سے ایک

تودنیا میں ملک کی بدنامی ہوتی ہے دوسرے صارفین کے لٹیروں کے ہتھے چڑھنے کے خطرات بھی ہر وقت منڈ لاتے رہتے ہیں ۔

شاید آپ بھی چوری شدہ سافٹ وئيرز استعمال کررہے ہو کيونکہ 70 فيصد سے زائد پاکستانی چوری شدہ سافٹ وئيرز استعمال کررہے ہيں لیکن ملک ميں آئی ٹی صنعت تيزی سے پروان چڑھنے کے باوجود اس مسئلے کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کہيں نظر نہيں آرہے۔

آئی ٹی ایکسپرٹ نوید مرزا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی سافٹ وئیر ہاوسز اپنے کمپیوٹر میں پائیریٹڈ سافٹ وئیر استعمال کرتے ہیں اور کوئی سافٹ وئیر ڈویلپ کرتے ہیں تو اس ایگزیکیٹو کوڈ کے اندر جو آپ اپنے کلائنٹ کو باہر بھیجتے ہیں اس میں کوئی مال وئیر ایگزی کیوٹ ہو جاتا ہے تو یہ بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک اور آئی ٹی ماہر حمزہ طاہر کا کہنا ہےکہ نقصان نوجوان نسل کا ہو رہا ہے جو کاپی پیسٹ کے عادی ہو گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پائیریسی پر سخت ایکشن ہونا چاہیے اور ایپ سافٹ وئیرز کو ریگولرائزڈ ہو نا چاہیے۔

پاکستان سافٹ وئيرايکسپورٹ بورڈ کے عہديداروں کا کہنا ہے کہ لوگ سافٹ وئير کے لیے پيسہ دينے کو تيار ہی نہيں اور وہ کاپياں استعمال کرکے جان چھڑاليتے ہيں۔

حکام کا کہنا ہے اس کے بعد فراڈیوں کی طرف سے رجسٹريشن کا کہا جاتا ہے اورنہ کرنے پر کمپيوٹر لاک کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے جسے رينسم وئير کہا جاتا ہے يعنی تاوان کی ادائيگی تک آپ کا کمپیوٹر انکے قبضے ميں رہے گا۔

آئی ٹی ایکسپرٹ نوید مرزا کہتے ہیں کہ ہم نے ایک کریک سافٹ وئیر ڈاؤن لوڈ کیا اور ایسا کرتے ہی ہمارے پاس رینسم ویئر آگیا اس نے ساری ڈیٹا ڈرائیو کو انکریپٹ کر دیا اور اندر ایک ٹیکسٹ فائل چھوڑ دی جس میں میسیج لکھا تھا کہ ہم سے رابطہ کریں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے پیسے بھیجیں اس کے بعد ہم اسے ڈی انکریپٹ کر دیں گے۔

سافٹ ویئر ڈیویلپر ندیم رحیم کا کہناہے کہ پوری انڈسٹری میں کوئی بھی کچھ بنانے میں دلچسپی نہیں لیتا وہ کہتا ہے کہ ہر طرف کاپی مل رہی ہے پاکستان میں پروڈکٹ کی گروتھ نہیں ہو رہی اور اگر یہی انڈسٹری اپنے ملک میں تیار ہوگی تو ہم یہ چیز خود بنا سکیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube