Saturday, June 12, 2021  | 1 ZUL-QAADAH, 1442

قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، اہم فیصلوں کا اعلان ہوگیا

SAMAA | - Posted: Apr 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ان ڈور ڈائننگ اور آؤٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی عائد

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کرلئے گئے ہیں۔ ایس او پیز کی مکمل پاسداری کےلیے ہر ممکن اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کرونا کےحوالے سے قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے بتایا کہ این سی او سی کو صوبوں کے ساتھ مل کر ممکنہ لاک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جن اضلاع میں  وائرس کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہوگی وہاں 9ویں اور 10 ویں جماعت سمیت تمام تعلیمی ادارے مکمل بند کردئیے جائیں گے۔

اسد عمر نے بتایا کہ شام 6 بجے کے بعد صرف ضروری نوعیت کے کاروبار کھولے جائیں گے۔ عید تک ملک بھر میں ان ڈور ڈائننگ اور آؤٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم ٹیک اوے کی اجازت ہوگی۔ ان ڈور جمز پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اسد عمر نے یہ بھی بتایا کہ دفاتر کے اوقات 2 بجے تک کردئیے گئے ہیں اور گھر سے کام کرنے کے لیے 50 فیصد حاضری پر زور دیا گیا ہے۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بیماری بڑھتی ہے تو لاک ڈاؤن ہوسکتا ہے۔اس لئے عوام سے مطالبہ ہے کہ عید کی خریداری ابھی سے شروع کردیں اور آخری دنوں کا انتظار نہ کریں۔اسد عمر نے مزید کہا کہ  بیرون ملک سے آنے والے افراد کی تعداد میں کمی لائی جائے گی۔ملک میں آکسیجن سپلائی 90 فیصد جاری ہے اور 75 سے 80 فیصد صحت کے شعبے میں استعمال ہورہی ہے تاہم بیرون ملک سے بھی درآمد کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبر:پنجاب میں کرونا ویکسینیشن سینٹرز کے اوقات تبدیل

اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے اظہار خیال کرتےہوئے عوام سے اپیل کی ہےکہ اگراحتیاط نہ کی توحالات خراب ہوجائیں گے۔ اس وقت لاک ڈاؤن کی تجاویز بھی مل رہی ہیں۔ گھر سے باہر جاتے ہوئےماسک کا استعمال لازمی کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج کو حکم دے دیا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے پولیس کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں۔

ویکسین سے متعلق انھوں نے کہا کہ پاکستان پوری کوشش کرے گا کہ ویکسین کی شرح بڑھائے لیکن دنیا بھر میں ویکسین کی قلت ہے۔ ابھی بھی ویکسیننز پوری طرح شروع کی تو ایک سال لگ سکتا ہے اس لئے پوری قوم کو مل کر وبا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبر: پاکستان میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.90 فیصد ہوگئی

انھوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں کرونا کے باعث جو حالات ہوئے ہیں،اگر پاکستان نے احتیاط نہیں کی تو یہاں بھی حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے اسپتالوں کی گنجائش ایک سال پہلے بڑھائی تھی،اس لئے حالات قابو میں ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube