Tuesday, June 22, 2021  | 11 ZUL-QAADAH, 1442

جسٹس فائزعیسیٰ کیس: 10رکنی بینچ کے ارکان میں تلخ کلامی

SAMAA | - Posted: Apr 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Apr 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران 10 رکنی فل بینچ کے ارکان میں تلخ کلامی ہوگئی، ماحول میں کشیدگی پر سماعت میں مختصر وقفہ کرنا پڑگیا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی کیس میں ججز کی دبی دبی جملے بازی تلخ کلامی میں تبدیل ہوگئی۔ 10 رکنی بینچ میں جسٹس مقبول باقر نے حکومتی وکیل عامر رحمان کو دلائل مختصر رکھنے کی ہدایت کی، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا یہاں کوئی ریس نہیں لگی ہوئی، میں سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا بہت ہوگیا، سینئر سے بات کرنے کا یہ طریقہ نہیں، جسٹس قاضی امین نے بھی حکومتی وکیل کو تسلی سے دلائل دینے کا کہہ دیا۔

عامر رحمان کے دلائل کے دوران جسٹس مقبول باقر نے پھر ٹوک کر مختصر بات کرنے کا کہا۔ اس مرتبہ جسٹس سجاد علی شاہ بولے آپ نے یہی کرنا ہے تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا اٹھ کر تو ہم بھی جاسکتے ہیں، عدالت کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔

تلخی بڑھنے پر بینچ سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے سماعت 10 منٹ کیلئے روک دی۔ سماعت دوبارہ شروع ہونے پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا جسٹس مقبول باقر تو پورے بینچ کو بہت پیارے ہیں۔

دلائل کے دوران وفاق کے وکیل عامر رحمان نے کہا سرینا عیسیٰ کا مؤقف عدالت نے سُنا تھا، نظرثانی میں فیصلہ یکسر تبدیل نہیں ہوسکتا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے مداخلت کی کوشش کی تو جسٹس منظور ملک نے انہیں روک دیا۔ کیس کی مزید سماعت جمعہ کو ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube