Thursday, June 17, 2021  | 6 ZUL-QAADAH, 1442

کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے دھرنا ختم کردیا

SAMAA | and - Posted: Apr 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA | and
Posted: Apr 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی بیدخلی سے متعلق قرار داد پیش اور منظور ہونے کے بعد منگل کو مسجد رحمت اللعالمین کے باہر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

کالعدم تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان مولانا شفیق امینی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کے مطالبات تسلیم کرلئے اور فرانسیسی سفیر کی ملک سے بیدخلی سے متعلق قرار داد بھی قومی اسمبلی میں پیش کردی ہے۔

شفیق امینی نے مزید کہا کہ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور گرفتار کارکنان کی رہائی کا بھی حکم دیدیا ہے۔

کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت کے دھرنے کے خاتمے کے بعد لاہور کے علاقوں چوک یتیم خانہ اور اطراف کے علاقوں میں ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔

اس سے قبل گستانہ خاکوں کے معاملے پر فرانس کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں منظور کرلی گئی۔

قرارداد کے متن میں لکھا ہے کہ ایوان متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیپڈو کی طرف سے یکم ستمبر 2020 کو ناموس رسالت کی گستاخی اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعات کی پرزور مذمت کرتا ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے معاملہ پر بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک بالخصوص فرانس کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے اور تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور اس مسئلے کو اجتماعی طور پر بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔

ایوان میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ بین الاقوامی تعلقات کے معاملات ریاست کو طے کرنا چاہیئے اور کوئی فرد، گروہ یا جماعت اس حوالے سے بے جا غیرقانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا۔

اسکے علاوہ صوبائی حکومتیں تمام اضلاع میں احتجاج کے لیے جگہ مختص کریں تا کہ عوام الناس کے روزمرہ کے معمولات زندگی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

کالعدم تحريک لبيک پاکستان کے احتجاج اور ملکی حالات کے پيش نظر قومی اسمبلی اجلاس کا شيڈول ہنگامی بنياد پر تبديل کيا گيا۔ گذشتہ روز اجلاس جمعرات تک ملتوی کیا گیا تھا۔

چيف وہپ پی ٹی آئی عامر ڈوگر نے اپيل کی تھی کہ تمام ارکان قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں۔

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے متعلق پی پی پی ارکان اسمبلی کو آگاہ کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلزپارٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ

پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ معاہدہ قومی اسمبلی میں نہیں لایا گیا اور حکومت نے سڑکوں پر ایکشن لیا۔ پھر پابندی عائد کی، لوگ جان سے گئے اور 500 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند ہوئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں بیان نہیں دیا اور کسی بھی مرحلے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، اب پی ٹی آئی ایوان کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے ساتھ احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحفظ ناموس رسالت اور توہین آمیز خاکوں کے خلاف متفقہ قرار داد پیش کی گئی۔ قرارداد حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے پیش کی گئی۔

کالعدم ٹی ایل پی اوروفاق میں مذاکرات کامیاب،پابندی ختم ہونیکاامکان

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک اور حکومت کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ تحریک لبیک ملک بھر سے دھرنے ختم کرے گی جب کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔

مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کےخلاف شیڈول فورتھ سمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سما ڈیجیٹل کو بتایا تھا کہ حکومت ان کی جماعت سے پابندی ہٹانے پر بھی رضامند ہوگئی ہے۔ تاہم ٹی ایل پی کے ترجمان نے تصدیق یا تردید نہیں کی، جب کہ حکومت بھی اس حوالے سے فی الحال خاموش ہے۔

قبل ازیں لاہور میں مسجد رحمت اللعالمین کے باہر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رہنما فاروق الحسن نے دھرنے کے شرکا کو بتایا تھا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مذاکرات کے حوالے سے آج دن 11 بجے کے بعد اعلان کریں گے، تاہم ان کی جانب سے دھرنہ ختم کیے جانے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان، پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے۔

تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر 19 اپریل کے روز ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔

وزیراعظم کا خطاب

اس سے قبل پیر کی شام قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ جب بھی نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ علما سے کہوں گا کہ وہ میرا ساتھ دیں۔ وزیراعظم نے پولیس اور شہری تنصیبات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ پولیس کی 40 گاڑیوں کو جلایا گیا ہے، چار پولیس والے ہلاک ہوئے ہیں، پہلے دن 100 سڑکیں بلاک کی گئیں۔ آکسیجن کے سیلنڈر نہیں پہنچ پا رہے تھے جس سے کرونا کے مریضوں کی اموات ہوئیں۔

حکومت اور ٹی ایل پی کا سال 2020 میں ہونے والا معاہدہ کیا تھا؟

پاکستان کی وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube