Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

ملک آگ اورخون کے کھیل کامتحمل نہیں ہوسکتا،احسن اقبال

SAMAA | - Posted: Apr 20, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 20, 2021 | Last Updated: 6 months ago

حکومت کی ترجیحات نوازشریف کی جائیدادیں ضبط کرنا ہے

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں آگ اور خون کے کھیل کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں  نارووال اسپورٹس کمپلیکس کیس کی سماعت کے موقع پر لیگی رہنما احسن اقبال عدالت میں پیش ہوئے تاہم ان کے وکیل پیش نہ ہوسکے۔ احسن اقبال نے وکیل کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ احسن اقبال نے عدالت کو درخواست کی کہ اس وقت رمضان کا مہینہ چل رہا ہے، بہتر ہوگا اگر رمضان کے بعد کی تاریخ دے دیں اور نیب کے گواہ جھوٹی گواہیوں سے بچ جائیں گے۔ احسن اقبال کی درخواست بریت پرفریقین کو27اپریل کےروزدلائل دینےکی ہدایت کی گئی۔ احتساب عدالت نے سماعت مزید کارروائی کیلئے27اپریل تک ملتوی کردی۔۔

عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتےہوئے انھوں نے وزیراعظم عمران خان کے پیر کو کئے گئے خطاب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کل وزیراعظم نے جو خطاب کیا وہ طعنہ زنی اور الزام تراشی تھی۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں وزیراعظم بات نہ کیا کریں کیوں کہ جب ملک میں ایسے حالات ہوں تو لیڈر کو یہ باتیں نہیں کرنی ہوتی ہیں۔ ملک کے حالات کیا ہیں اور حکومت کی ترجیحات نوازشریف کی جائیدادیں ضبط کرنا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ کل وزیراعظم نے ملک میں ترقی کی جو منظر کشی کی ہے اور جس جنت کا نقشہ کھینچا ہے، ہم سب اس پاکستان میں جانا چاہتے ہیں۔

 مزید پڑھیں: ملکی حالات تلخ اور انتشار کا شکار ہیں، شاہد خاقان

لیگی رہنما نے کہا کہ نئے وزیر خزانہ خود کہہ چکے ہیں کہ حکومتی پالیسیوں نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ پاکستانی معیشت ایک ڈیڑھ فیصد پر ترقی کرے گی جبکہ بھارتی معیشت 11 فیصد پر ترقی کررہی ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ عمران خان کی خوشحالی ہے کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آرہی لیکن ان کو پرواہ نہیں ہے۔ عمران خان کو پرواہ ہے کہ شہباز شریف کی ضمانت منسوخ ہوتی ہے یا نہیں۔

موجودہ ملکی حالات پر احسن اقبال نے کہا کہ ملک کو آج جس بحران کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہے اور اپوزیشن پر الزام تراشی نہیں کرنی چاہئے۔ سال 2017 کے دھرنے میں جو کردار پاکستان تحریک انصاف نے ادا کیا تھا، مسلم لیگ نون نے موجودہ حالات میں وہ کردار ادا نہیں کیا۔ اُس وقت عمران خان نے پیٹرول بغل میں اٹھایا ہوا ہوتا تھا اور جہاں دیکھتے تھے کہ کوئی چنگاری ہو اس پر چھڑک دیتے تھے۔

احسن اقبال نے واضح کیا کہ ناموس رسالت ﷺ پر ہر مسلمان مر مٹنے کو تیار ہے۔ اس حکومت نے پہلے معاہدہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو نکالیں گے اور اب آنکھیں کھلیں تو کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے نقصان ہوگا۔جب حکومتی وزیریہ معاہدہ کر رہے تھے توحکومت کہاں تھی۔ امید ہے کہ تمام فریقین گفت و شنید سے مسئلے کا حل نکالیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میں آپریشن اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر ہوا تاہم اس دھرنے کے حالات پر بات نہیں کرنا چاہتے۔اس وقت معاملات کو سلجھانا چاہتے ہیں کیوں کہ پاکستان کے دشمن اس طرح کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔

پاک بھارت تعلقات پراحسن اقبال نے کہا کہ کل وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ بھارت اس معاملے کو سول جنگ کی طرف لے جا رہا ہے۔ اگر بھارت ایسا کر رہا ہے تو وہ آپ کے ساتھ دبئی میں مذاکرات کررہا ہے۔پاکستان کو چاہئے کہ بھارت کو وہاں یہ بتائے کہ وہ ایسا نہ کرے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube