Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

کالعدم ٹی ایل پی اوروفاق میں مذاکرات کامیاب،پابندی ختم ہونیکاامکان

SAMAA | and - Posted: Apr 20, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA | and
Posted: Apr 20, 2021 | Last Updated: 5 months ago

باقاعدہ اعلان پریس کانفرنس میں ہوگا

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک اور حکومت کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ تحریک لبیک ملک بھر سے دھرنے ختم کرے گی، جب کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر جاری اپنے اہم ویڈیو پیغام میں مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ بات طے پا گئی ہے کہ آج قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کریں گے اور تحریک لبیک مسجد رحمت العٰلمین سمیت سارے ملک سے دھرنے ختم کرے گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کےخلاف شیڈول فورتھ سمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔ وہ اس سے متعلق تفصیلی بیان آج شام یا کل دوپہر کسی وقت پریس کانفرس کے ذریعے دیں گے۔

دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ حکومت ان کی جماعت سے پابندی ہٹانے پر بھی رضامند ہوگئی ہے۔ تاہم ٹی ایل پی کے ترجمان نے تصدیق یا تردید نہیں کی، جب کہ حکومت بھی اس حوالے سے فی الحال خاموش ہے۔

قبل ازیں لاہور میں مسجد رحمت اللعالمین کے باہر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رہنما فاروق الحسن نے دھرنے کے شرکا کو بتایا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مذاکرات کے حوالے سے آج دن 11 بجے کے بعد اعلان کریں گے، تاہم ان کی جانب سے دھرنہ ختم کیے جانے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جماعت کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر محمد شفیق امینی نے پیر کی رات اپنے ایک آڈیو پیغام میں ملک بھر میں اپنے پیروکاروں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ صرف لاہور میں ان کے مرکز رحمت العٰلمین میں پر امن احتجاج جاری رہے گا۔

سیکیورٹی صورت حال

حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان، پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری ابھی بھی تعینات ہے جبکہ دارالحکومت کے حساس مقامات پر بھی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

ٹویٹ

فیض آباد پل کے نیچے مرکزی شاہراہ کے اطراف میں کنٹینرز بھی تاحال رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے راستے سیل کرنے میں استعمال کر رہی ہے۔

تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر کے روز ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔

وزیراعظم کا خطاب

اس سے قبل پیر کی شام قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ جب بھی نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ علما سے کہوں گا کہ وہ میرا ساتھ دیں۔وزیراعظم نے پولیس اور شہری تنصیبات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ پولیس کی 40 گاڑیوں کو جلایا گیا ہے، چار پولیس والے ہلاک ہوئے ہیں، پہلے دن 100 سڑکیں بلاک کی گئیں۔ آکسیجن کے سیلنڈر نہیں جا پا رہے تھے کورونا کے مریضوں کی اموات ہوئیں۔

ملک گیر ہڑتال

تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر 19 اپریل کی صبح ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔

کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا اور کچھ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر کھلے رہے تو کہیں کہیں ہڑتال کا سماں رہا۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ کئی شہروں میں تاجر برادری اور وکلا تنظیموں نے بھی اس ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اسلام آباد

لاہور میں مظاہرے

اتوار کو یہ احتجاج ایک مرتبہ پھر پرتشدد رخ اختیار کر گیا تھا اور لاہور میں تحریکِ لبیک اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیر کی صبح سحری کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا کہ اتوار کو لاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تمام اہلکاروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئیں۔ یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔

پولیس، ٹی ایل پی

ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ لبیک کی جانب سے کم از کم دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے اتوار کی صبح ان کے مرکز پر دھاوا بولا جبکہ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈی ایس پی نواں کوٹ سمیت پولیس کے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔

حکومت اور ٹی ایل پی کا سال 2020 میں ہونے والا معاہدہ کیا تھا؟

پاکستان کی وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube