کالعدم ٹی ایل پی سےیکجتی،علماکےاعلان پرآج ملک بھرمیں شٹرڈاؤن ہڑتال

SAMAA | - Posted: Apr 19, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 19, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago

بشکریہ آن لائن

لاہور واقعے کے خلاف مفتی منیب الرحمان کے اعلان پر آج ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔  سیکیورٹی ہائی الرٹ اور سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب ہے۔

کراچی میں اتوار 18 اپریل کو پریس کانفرنس میں مفتی منیب الرحمان اور دیگر علما نے لاہور واقعے کے خلاف آج ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا۔

کراچی میں شٹر ڈاؤن اور پیہہ جام ہڑتال کی کال پر کاروباری مراکز بند اور سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے بھی معاملے پر یکجتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھی اس معاملے میں مفتی منیب کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔

کسی بھی ممکنہ رد عمل سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد، راول پنڈی، لاہور اور کراچی سميت مختلف شہروں ميں  سيکيورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں اتوار کی رات سے ہی مظاہرین جمع ہونا شروع ہوگئے، جس کے بعد اہم مقامات پر رینجرز نے پوزیشنز سنبھال لیں۔

بار کونسل کا بھی ہڑتال کا اعلان

سندھ بار کونسل کی جانب سے لاہور میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت اور وکلاء کی ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق سندھ بھر میں وکلاء آج عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔

 تاجروں نے بھی حمایت کردی

آل کراچی تاجر اتحاد، کراچی تاجر الائنس، کراچی تاجر ایسوسی ایشن، بینکوئٹ ہال ایسوسی ایشن اور انجمن تاجران سندھ نے اپنے بیانات میں مفتی منیب الرحمٰن کی کال پر پہیہ جام ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل اور تجارتی مراکز، مارکیٹیں اور ٹرانسپورٹ بند رہےگی۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کراچی میں پیٹرول اور سی این اسٹیشنز بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ لاہور میں پولیس اور رینجرز نے یتیم خانہ چوک پر کئی روز سے قابض مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آپریشن کیا ہے۔ آپریشن کے دوران یتیم خانہ چوک کی جانب جانے والے تمام راستے بند کردیئے گئے، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

لاہور میں موبائل سروس متاثر

لاہور میں روز 5 روز سے موبائل ڈيٹا سروس بھی کام نہیں کررہی ہے۔ لاہور میں یتیم خانہ چوک کے اطراف کے10کلومیٹر کے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل ہے۔ شاہدرہ سے ٹھوکر نیاز بیگ اور بندروڈ سے گلبرگ تک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے، جب کہ مزنگ، لٹن روڈ، چوبرجی، جیل روڈ، مال روڈ، ریوازگارڈن اور داتا دربارو ملحقہ علاقوں میں بھی موبائل اورانٹر نيٹ سروسز دونوں متاثر ہيں۔شہريوں کوسوشل میڈیا اورآن لائن امورانجام دینے میں شديد مشکلات کا سامنا ہے۔

سعد رضوی کی گرفتاری

گزشتہ ہفتے کے آغاز میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے تمام بڑے شہروں میں ٹی ایل پی کے کارکنان کی جانب سے مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ جو تین دن تک جاری رہے جس میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب پولیس افسران پر حملہ کرنے اور سڑکوں کو روکنے کے الزام میں ہزاروں ٹی ایل پی کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے گیے جب کہ جمعرات 15اپریل کو پارٹی پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیدیا گیا۔

سعد رضوی کا پاسپورٹ ضبط، شناختی کارڈ بلاک

کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کے خلاف محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کارروائی کا نوٹی فیکیشن جاری کیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا اہم اجلاس صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں 17 اپریل کو ہوا۔ اجلاس میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک کے تمام اثاثے منجمد کرنے کی منظوری دی گئی۔

محکمہ داخلہ نے متعلقہ انتظامیہ کو اثاثے فوری طور پر تحویل میں لینے کی ہدایات کر دیں۔ اجلاس میں تحریک کے موجودہ سربراہ سعد رضوی سمیت 6 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے کی سفار ش کر دی۔

محکمہ داخلہ نے وفاقی وزارت داخلہ کو نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے شناخت ہونے والے درجنوں افراد کی فوری گرفتار ی کا حکم دیدیا۔

دوسری طرف فورتھ شیڈول میں نام شامل ہونے کے بعد مرحوم علامہ خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی کی جائیداد منجمد اور شناختی کارڈ بلاک کردیاگیا، سعد رضوی کوئی بینک اکاؤنٹ استعمال کرسکیں گے نہ جائيدادکی خرید و فروخت کرسکیں گے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے بھی تحریک لبیک کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق سعد رضوی کو اصل پاسپورٹ متعلقہ تھانے کےانچارج کوجمع کروانا ہوگا۔ مستقل رہائش گاہ سے کہیں اور جانے پر متعلقہ تھانے سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

پس منظر

تحریکِ لبیک نے گزشتہ سال 2020 میں فرانس میں متنازع خاکوں کی اشاعت کے خلاف راول پنڈی میں فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا، جو بعد ازاں 16 نومبر کو حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ختم ہوا۔

بعد ازاں ٹی ایل پی کی جانب سے حکومت کو دوبارہ رواں سال 16 فروری کو احتجاج کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ جس میں 16فروری تک فرانس میں مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے معاملے پر پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ شامل تھا، تاہم اس سے قبل ہی 11 جنوری کو دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے اور معاہدہ ہوا۔ معاہدے میں تحریک لبیک کی نمائندگی کرنے والوں میں غلام غوث، ڈاکٹر محمد شفیق، غلام عباس اور محمد عمیر شامل تھے، جب کہ حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیرِ مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی تھی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا تھا کہ جن رہنماؤں یا کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں، وہ فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں گے۔ معاہدے کی شق کے مطابق رواں سال 20 اپریل تک معاہدے کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور اِن سب باتوں کا اعلان خود وزیرِ اعظم کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 20 اپریل کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا کہا گیا تھا۔

کمیٹی تشکیل

تاہم 20 اپریل سے قبل ہی وزیراعظم نے 5 اپریل کو کالعدم ٹی ایل پی کے معاملے پر 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی اراکین میں مخدوم شاہ محمود قریشی، شیخ رشید احمد اور پیر نور الحق قادری شامل تھے۔ تحریک لبیک سے معاہدے کے معاملے پر وزیراعظم نے 7 اپریل بروز بدھ اہم اجلاس بھی طلب کیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری شریک ہوئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube