تحریک لبیک کارکنوں کیخلاف ریاست مخالف سرگرمیوں پرکارروائی کی سفارش

SAMAA | - Posted: Apr 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: آن لائن

سندھ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے جمعہ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کراچی کے سائبر کرائم یونٹ (سی سی یو) کو لکھے گئے خط میں سفارش کی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کیخلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر کو فروغ دینے پر ایکشن لیا جائے۔

سی ٹی ڈی سندھ نے اپنے خط میں 30 ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست مخالف اور نفرت انگیز تقاریر و فرقہ پرستی پھیلانے کی تفصیلات بھی شیئر کی ہیں۔

سی ٹی ڈی سندھ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی پی) عمر شاہد حامد کے مطابق انہیں سی ٹی ڈی اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) راجا طارق محمود کی جانب سے خط لکھ کر یہ بتایا گیا ہے سی ٹی ڈی کے سوشل میڈیا مانیٹڑنگ سیل کے مشاہدے میں آیا ہے کہ ٹی ایل پی کے کارکن ریاست مخالف سرگرمیوں بشمول نفرت انگیزی اور فرقہ واریت میں ملوث ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کی لاہور میں گرفتاری کے بعد اس جماعت نے ملک بھر میں مظاہرے شروع کردیئے تھے۔ ٹی ایل پی کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ حکومت معاہدے کے مطابق 20 اپریل 2021ء سے قبل فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرے۔

مزید جانیے: ٹی ایل پی تشدد،انتہاپسندی کوہوادیناچاہتی ہے،فوادچوہدری

ایس ایچ او، سی ٹی ڈی کا مزید کہنا ہے کہ اس سے قبل ٹی ایل پی کے حامی پاکستان میں پُرتشدد ریلیاں نکال چکے ہیں، جس کا مقصد گستاخانہ سرگرمیوں میں ملوث ممالک کے ساتھ تعلقات کو ختم کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ پرتشدد مظاہروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں اور قتل کے واقعات کو بھی سوشل میڈیا پر سراہا گیا۔

ایس ایچ او، سی ٹی ڈی راجا طارق محمود کا خط میں کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالفت اور نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کیا جارہا ہے، جس سے ملک میں اشتعال انگیزی اور انتشار پیدا ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ٹی ایل پی رہنماؤں کوحراست میں لینےکا حکم

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیم قرار دے چکی ہے جبکہ دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے پارٹی پر پابندی بھی عائد کی جاچکی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل کے مشاہدے میں آیا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے مندرجہ ذیل سوشل میڈیا اکاؤنٹس نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ واریت سمیت ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی پوسٹس سے معاشرے میں اشتعال پھیلتا ہے اور یہ مذہبی لوگوں کے جذبات بھڑکانے کا سبب بنتی ہیں، جس سے ریاست میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔

تفصیل جانیے: ٹی ایل پی سربراہ سعد حسین رضوی گرفتار، شہرشہر مظاہرے

سی ٹی ڈی نے 16 اپریل کو سی سی یو کراچی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو ایک خط لکھا اور سوشل میڈیا پر تشدد کو ہرا دینے کے الزام میں ٹی ایل پی سے وابستہ افراد کے زیر استعمال سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی درخواست کی۔

خط میں سی ٹی ڈی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے پیروکار ٹی ایل پی کے کارکنوں کی نفرت انگیز تقاریر کو فروغ دے کر پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ، پیکا (پی ای سی اے) کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube